ریاض / تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر مبینہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس واقعے میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایرانی فوجی بیان کے مطابق ایران نہ صرف اس حملے میں ملوث نہیں بلکہ اس واقعے کی مذمت بھی کرتا ہے، اور اپنی مسلح افواج کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی ڈرونز نے سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر دو ڈرونز فضائی دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے سفارتخانے کے احاطے میں داخل ہوئے اور دھماکے کیے۔
تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
پس منظر
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس سے قبل اسرائیلی اہداف اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کر چکا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایسے حملوں کی ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ خطے میں متعدد غیر ریاستی عناصر بھی سرگرم ہیں، جو کسی بھی بڑے واقعے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل
عالمی سطح پر اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک نے سفارتی تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی واقعے کو بڑے تصادم کا سبب بنایا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول ایسے حالات میں اطلاعاتی جنگ بھی عروج پر ہوتی ہے، جہاں مختلف فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی خبر کی تصدیق انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔





















