معاشی بحران میں ہر چھوٹا، بڑا عہدیدار قربانی دے:میاں ریحان مقبول

86ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ 150ارب کا مفت پٹرول جلا رہی ہیں،یہ کون سی بچت پالیسی ہے؟

لاہور(تحریک نیوز)پاکستان عوامی تحریک کے سینئر نائب صدر میاں ریحان مقبول نے کہا ہے کہ معاشی بحران میں ہر چھوٹا، بڑا عہدیدار قربانی دے، 86ہزار سرکاری گاڑیاں 150ارب کا مفت پٹرول ، ڈیزل جلارہی ہیں یہ کون سی بچت پالیسی ہے؟محکمہ آبپاشی کے پرائم لوکیشنز پر قائم 412 ریسٹ ہائوسز کی سالانہ آمدن 3لاکھ 71ہزار ہے جبکہ ان ریسٹ ہائوسز کی دیکھ بھال اور ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ہر سال کروڑوں روپے عوام کے ٹیکسوں سے ادا کئے جارہے ہیں۔

خسارہ کے نام پر پی آئی اے کو بیچ دیا گیا ان ریسٹ ہائوسز کوکب نیلام کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے فلور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے ان412ریسٹ ہائوسز میں وزراء ،افسران ،بااثر سیاستدانوں کے رشتہ دار ٹھہرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سنگین ترین مالی بحران سے گزر رہا ہے اور عوام سے قربانی دینے کے مطالبات کئے جارہے ہیں، پٹرول ،ڈیزل ،بجلی ،گیس کی قیمتیں تاریخ اور خطے میں سب سے زیادہ ہو چکی ہیں جس سے کاروبار ہی نہیں زندگی کا پہیہ بھی جام ہو کر رہ گیا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی شخصیات کے اللوں تللوں اور خرچوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی، سب سے زیادہ اخراجات سرکاری محکمے اور افسران کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض رپورٹس سے پتہ چلا کہ حکومت برطانیہ کے پاس 90 سرکاری گاڑیاں ہیں جبکہ مقروض اور غریب ملک پاکستان میں 86ہزار گاڑیاں سرکاری پٹرول پر سڑکوں پر دندناتی پھر رہی ہیں انہیں بیچا جائے اور پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں اگر اس ملک کا ایک عام تنخواہ دار معمولی تنخواہ کے ساتھ اپنی سواری پر دفترآتاجاتا ہے تو ملینز میں تنخواہیں لینے والے افسران کیوں نہیں آسکتے؟۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ملازمین ایسے ہیں جو سرکاری افسروں کے رشتہ داروں کے گھروں میں کام کرتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہیں قومی خزانے سے جاری ہوتی ہیں۔ حکمران اگر وطن عزیز کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے سنجیدہ ہیں توپھر یہ تمام اللے تللے ختم کئے جائیں، سرکاری افسران سے بڑی بڑی رہائش گاہیں خالی کروائی جائیں، سرکاری گاڑیوں کا مفت پٹرول بند کیا جائے اور یہ تمام گاڑیاں نیلام کر کے رقم خزانے میں جمع کروائی جائے، افسروں کے رشتہ داروں کے گھروں میں کام کرنے والے ڈرائیوروں، مالیوں اور درجہ چہارم کے عملہ کو واپس بلا کر اُن سے سرکاری کام لیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین