بینک اکاؤنٹس کھلوانے کیلئے رکاوٹیں دور کی جائیں،متحدہ مدارس کونسل

ڈی جی آر ای کے ہوتے ہوئے صوبائی رجسٹریشن کے نظام کی ضرورت نہیں ،اعلامیہ

لاہور(رپورٹ:رمیض حسین)متحدہ مدارس کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں دس دینی بورڈز اور جامعات کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مدارس کے حوالے سے وفاق کے بعد صوبائی حکومتوں کی طرف سے بھی نئی رجسٹریشن پالیسی متعارف کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ صوبائی حکومتوں کی مداخلت کی وجہ سے 2017ء میں ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کے تناظر میں مالی شفافیت کے لئے ریاستی سطح پر جو فیصلے کئے گئے تھے اُن پر عملدرآمد کی رفتار کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے اور مالی شفافیت کے اہداف حاصل نہیں ہورہے۔

متحدہ مدارس کونسل کے ترجمان و نظام المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر میر آصف اکبر نے کہا ہے کہ ڈی جی آر ای کے سرٹیفکیٹ کے اجراء کے بعد مدارس کو چیرٹی کمیشن کا سرٹیفکیٹ جاری ہونا چاہیے تاکہ مدارس فوری طور پر اپنے بینک اکائونٹ کھلوا سکیں۔ ریاست پاکستان کا یہ مطالبہ اور ضابطہ ہے کہ ہر دینی ادارہ اکائونٹ کے ذریعے لین دین کرے گا مگر صوبائی حکومتوں کی طرف سے وفاق کے متوازی رجسٹریشن کا نظام لانے کی وجہ سے اکائونٹس کھلوانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مدارس دینیہ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ڈی جی آر ای کی رجسٹریشن کے بعد مزید کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ اکائونٹس کے ذریعے مالیاتی لین دین ایف اے ٹی ایف کے تحت ایک ناگزیر تقاضا ہے بصورت دیگر ریاست پاکستان پر بار دیگر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومتیں الگ سے رجسٹریشن کرنے کی بجائے ڈی جی آر ای کے فیصلوں پر اعتماد کریں اور اپنے نظام کو ڈی جی آر ای کے ساتھ لنک کریں تاکہ بلاتاخیر اکائونٹس کھل سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ بینک اکائونٹ کھلوانے کا مطالبہ ریاست پاکستان کی طرف سے تھا جسے مدارس دینیہ نے قبول کیا اور اب صوبائی حکومتیں اس راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ مالی نظام کی شفافیت بذریعہ بینک ٹرانزکشن یقینی بنانے میں ڈی جی آر ای کامیاب نہیں ہو ہوپارہا حالانکہ ڈی جی آر ای نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام کمرشل بینکوں کو خطوط بھی لکھے مگر تاحال ڈی جی آر ای کا یہ فیصلہ عملدرآمد کا منتظر ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین