لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بحری ٹریفک شدید متاثر ہو رہی ہے اور امریکا اپنے تمام دعووں اور دھمکیوں کے باوجود ایران کے کنٹرول کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے صرف روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک ملٹی لیئر دفاعی حکمت عملی استعمال کرتا ہے، جس میں ساحل پر موبائل میزائل بیٹریاں، چھوٹی اسپیڈ بوٹس، سمندری بارودی سرنگیں اور خودکش ڈرون شامل ہیں جو فضا سے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حملہ کر دیتے ہیں۔
اگرچہ امریکا دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ایرانی بحریہ، خاص طور پر اس کی آبدوزوں کو ختم کر دیا ہے، لیکن Midget Submarines کا خطرہ اب بھی موجود ہے، جس نے اس بحری راستے کے استعمال پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اپنے مؤثر کنٹرول کا مظاہرہ کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کے قریب کئی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے درمیان خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف میں 20 سے زائد بحری جہاز نشانہ بنائے گئے، جن میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔
ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، اور ایران صرف چند ممالک کو اپنے جہاز گزارنے کی اجازت دے رہا ہے۔
ان دو ہزار جہازوں میں سے تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں موجود ہیں، جبکہ باقی جہاز نہر سوئز کی طرف موڑ دیے گئے ہیں یا انہیں ایشیا اور یورپ تک مال پہنچانے کے لیے جنوبی افریقہ کے راستے کیپ آف گڈ ہوپ سے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل کر رہا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے 15 جہاز گزرے ہیں، جو ایرانی میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی نے عالمی بحری تجارت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے بند ہونے سے نہ صرف خلیج فارس اور خلیج عمان کے اطراف کی بحری ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے بلکہ عالمی معیشت میں توانائی کی ترسیل کے راستے بھی خطرے میں آ گئے ہیں۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اپنے دعووں اور دھمکیوں کے باوجود ایران کے کنٹرول کو ختم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں برقرار ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ایک جدید ملٹی لیئر دفاعی حکمت عملی استعمال کرتا ہے۔ اس میں ساحلی علاقوں پر موبائل میزائل بیٹریاں، چھوٹی اور تیز رفتار اسپیڈ بوٹس، سمندری بارودی سرنگیں اور خودکش ڈرون شامل ہیں، جو فضائی نگرانی کے ذریعے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حملے کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی ایران کو ایک چھوٹے بحری بیڑے کے باوجود مؤثر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
اگرچہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ایرانی بحریہ اور خاص طور پر آبدوزوں کو ختم کر دیا ہے، لیکن Midget Submarines کے خطرے نے ثابت کیا ہے کہ ایران کی چھوٹی اور پوشیدہ آبدوزیں اب بھی خطے میں خدشات پیدا کر رہی ہیں۔ یہ چھوٹی آبدوزیں انتہائی خفیہ انداز میں حرکت کرتی ہیں اور کسی بھی بڑے بحری حملے کے دوران ایک خطرہ بن سکتی ہیں، جس نے عالمی بحری ٹریفک کو محتاط اور محدود کر دیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اپنے مؤثر کنٹرول کا مظاہرہ کرنے کے لیے متعدد بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے بلکہ یہ بھی دکھانا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ صرف علامتی نہیں بلکہ حقیقی اور خطرناک ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق، 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف میں 20 سے زائد بحری جہاز نشانہ بنائے گئے، جن میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار خطے میں موجود کشیدگی اور خطرے کی شدت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایران صرف چند مخصوص ممالک کو اپنے جہاز گزارنے کی اجازت دے رہا ہے، جس سے عالمی ترسیلی نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں موجود ہیں، جبکہ باقی جہاز نہر سوئز کی طرف موڑ دیے گئے ہیں یا انہیں ایشیا اور یورپ تک مال پہنچانے کے لیے جنوبی افریقہ کے راستے کیپ آف گڈ ہوپ سے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
عالمی توانائی کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرنے والے سعودی عرب نے بھی اب آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے، تاکہ ایران کے کنٹرول سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچا جا سکے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی دیگر معیشتیں بھی ایران کے اثر و رسوخ کو نظرانداز نہیں کر سکتیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے صرف 15 جہاز گزرے، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نہ صرف اپنی سیکیورٹی برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس نے بحری راستے کو عالمی تجارت میں ایک اہم سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔





















