واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز اور اتحادی دباؤ کے بعد کیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے وائٹ ہاؤس میں ایک خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران کے خلاف بڑے فوجی حملے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے Mossad کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی شریک تھے، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے اور اس کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنے سے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو خاصا متاثر کیا اور انہوں نے ابتدائی طور پر اس منصوبے پر مثبت ردعمل دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے چار بڑے مقاصد تھے: ایرانی قیادت کو ختم کرنا، میزائل نظام کو تباہ کرنا، عوامی بغاوت کو ہوا دینا اور حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج)۔
تاہم بعد ازاں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس منصوبے کے کچھ حصوں پر تحفظات کا اظہار کیا، جن کے مطابق ابتدائی دو اہداف کسی حد تک ممکن تھے لیکن عوامی بغاوت اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے، جہاں بعض حکام نے اس منصوبے کی مخالفت کی جبکہ دیگر نے اسے خطے میں امریکی مفادات کے لیے ضروری قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ پیچیدہ سفارتی اور عسکری عوامل کے نتیجے میں کیا گیا، جس میں اتحادی دباؤ اور اندرونی مباحثے اہم کردار رکھتے تھے۔





















