خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں ایک سنہری لمحہ قریب آ گیا ہے، جہاں صوبائی اسمبلی کے اجلاس نے نئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی منتخب ہونے کی راہ ہموار کر دی، جو علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد ایک نئی قیادت کی بنیاد رکھے گا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری رہنے والے اس اجلاس میں گنڈاپور نے اپنے دورِ حکومت کی کارکردگی کا پراعتماد دفاع کیا، جبکہ اپوزیشن نے اس عمل کو آئین مخالف قرار دیتے ہوئے ایوان سے نکل گئی۔ یہ اجلاس نہ صرف صوبائی سیاست کی نئی سمت کا عکاس ہے بلکہ پی ٹی آئی کی اکثریت اور اپوزیشن کی حکمت عملیوں کی آزمائش بھی، جو صوبے کی ترقیاتی راہ کو مزید دلچسپ بنانے والا ہے۔
اجلاس کا آغاز
صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت وقت پر شروع ہوا، جہاں پہلے مرحلے میں علی امین گنڈاپور نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے 19 ماہہ دورِ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے استعفیٰ پیش کیا، اور اب جمہوری عمل کا مذاق نہ بنایا جائے، جو ان کی جماعتی وفاداری کی ایک واضح علامت ہے۔ گنڈاپور نے واضح کیا کہ جو کچھ گزشتہ عرصے میں پیش آیا، اسے مزید برداشت نہ کیا جائے گا، جو ان کی سیاسی جدوجہد کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے دورِ حکومت کا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ جب ذمہ داری ملی تو صوبائی خزانے میں صرف 18 روز کی تنخواہ موجود تھی، جبکہ آج 218 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جو معاشی استحکام کی ایک روشن تصویر پیش کرتا ہے۔ گنڈاپور نے اپوزیشن کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ناراضی ہو سکتی ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں ان کی حصہ داری کم تھی، مگر عوام کی خوشی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وسائل عوامی فلاح پر خرچ ہوئے۔
گنڈاپور کا جذباتی لہجہ
خطاب کے دوران گنڈاپور کا لہجہ گہرا جذباتی ہو گیا جب انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ذکر کیا، کہتے ہوئے کہ وہ ہمارے لیے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، اور ہم ہر حال میں پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ الفاظ ایوان میں موجود اراکین کے دلوں کو چھو گئے، جو جماعتی اتحاد اور سیاسی قربانی کی ایک زندہ مثال بنے۔ گنڈاپور کا یہ بیان نہ صرف ان کی ذاتی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ صوبائی سیاست میں پی ٹی آئی کی مضبوط جڑوں کو بھی واضح کرتا ہے، جو نئی قیادت کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
اپوزیشن کا شدید احتجاج
اجلاس کے اگلے مرحلے میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوا، اور ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے کا انتخاب آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ گورنر نے گنڈاپور کو بلایا ہے تاکہ ابہام دور ہو، اور اپوزیشن کو اتنی جلدی کیوں ہے جب ان کی اکثریت واضح ہے۔ عباد اللہ نے اس عمل کو متنازع اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس آئینی خلاف ورزی کا حصہ نہ بنیں گے، جو فوراً ہی ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ احتجاج نہ صرف اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ صوبائی اسمبلی میں توازن کی تلاش کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اسپیکر کی رولنگ
اپوزیشن کی تقریر کے دوران گیلری سے شور شرابہ ہونے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اگر خاموشی نہ برتی گئی تو اجلاس روک کر گیلری کو خالی کر دیا جائے گا، جو ایوان کی وقار کی حفاظت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سواتی نے اپوزیشن کی تقریر کے بعد کہا کہ گنڈاپور نے دو بار استعفیٰ گورنر کو بھیجا اور آج ایوان میں بھی اعلان کیا، مگر بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں، جو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے رولنگ سناتے ہوئے کہا کہ نئے قائد ایوان کا انتخاب آئین کے مطابق ہوگا، جس کے بعد منتخب وزیراعلیٰ کا اعلان کیا جائے گا، جو اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔ یہ رولنگ نہ صرف اجلاس کی سمت طے کرتی ہے بلکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے، جو صوبائی استحکام کی بنیاد ہے۔
امیدواروں کی فہرست
نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 4 امیدواروں نے نامزدگیاں جمع کرائی ہیں، جو صوبائی سیاست کی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو نامزد کیا ہے، جو قبائلی علاقوں سے پہلے وزیراعلیٰ بننے کی امید رکھتے ہیں۔ جے یو آئی ایف نے مولانا لطف الرحمان کو آگے بڑھایا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن نے سردار شاہ جہاں یوسف اور پیپلز پارٹی نے ارباب زرک خان کو امیدوار بنایا ہے۔ یہ نامزدگیاں اسمبلی میں 145 اراکین میں سے حکومتی 93 اور اپوزیشن کے 52 کی اکثریت کی جنگ کو دلچسپ بناتی ہیں، جو انتخابی نتائج کو طے کرے گی۔
انتخابی عمل
اجلاس کے دوران غیر حاضر اراکین کی حاضری یقینی بنانے کے لیے پانچ منٹ تک گھنٹی بجائی گئی، جس کے بعد حکومتی اراکین سہیل آفریدی کے لیے مختص لابی نمبر ایک میں جمع ہوئے، جہاں ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ اراکین کو انتخابی نتائج تک لابیز میں رہنے کی ہدایت دی گئی، جو عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کا حصہ تھی۔
نتائج میں پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی کو 90 ووٹ ملے، جو انہیں نئے قائد ایوان منتخب کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے ان کے امیدواروں کو ایک بھی ووٹ نہ ملا۔ پی ٹی آئی کے رکن آصف محسود کی غیر موجودگی (بیرون ملک ہونے کی وجہ سے) کے باوجود یہ اکثریت واضح رہی، جو جماعتی نظم و ضبط کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
اراکین نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو گلے لگا کر مبارکباد دی، جو ایوان میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ اسپیکر نے تمام جماعتوں کی شرکت کی تعریف کی اور ڈی آئی جی ایس پی آر سے کہا کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، اور ہمارے فوجی جوان ملک کی حفاظت میں قربانیاں دے رہے ہیں، جو فورسز کی خدمات کی قدر دانی کا اظہار تھا۔
پی ٹی آئی کا اعلان
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں سے حلف لے لیے ہیں، اور گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے تنبیہ کی کہ جو بانی پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سے غداری کرے گا، صوبے کی عوام اس کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دے گی اور اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔ یہ بیان جماعتی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے، جو انتخابی عمل میں نظم و ضبط کو یقینی بناتا ہے۔
گورنر کا کردار
یہ بات بھی یاد رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ دستخطوں کے اختلاف پر واپس بھیج دیا ہے، اور انہیں ذاتی حیثیت میں 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس طلب کر لیا ہے۔ یہ تنازعہ اسمبلی کے اجلاس کو مزید دلچسپ بناتا ہے، جو آئینی حدود اور سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور نئی قیادت کے لیے چیلنجز کو بڑھاتا ہے۔
عوامی ردعمل
اجلاس کے نتائج نے سوشل میڈیا پر پشاور اور خیبر پختونخوا بھر میں خوشی کی لہر دوڑا دی، جہاں پی ٹی آئی کے حامیوں نے سہیل آفریدی کی مبارکباد دی، جبکہ اپوزیشن نے بائیکاٹ کی وجوہات پر بحث کی۔ یہ ردعمل نہ صرف انتخاب کی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ صوبائی سیاست میں عوامی شرکت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو نئی قیادت کی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| اجلاس کا آغاز | اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت؛ نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب |
| گنڈاپور کا خطاب | استعفیٰ کا اعلان، 19 ماہہ کارکردگی کا دفاع، عمران خان کی قربانی |
| اپوزیشن کا احتجاج | ڈاکٹر عباد اللہ: غیر قانونی عمل؛ واک آؤٹ، گورنر کا بلاؤ |
| اسپیکر کی رولنگ | آئین کے مطابق انتخاب؛ گیلری شور پر تنبیہ، استعفیٰ منظور |
| امیدوار | سہیل آفریدی (90 ووٹ، پی ٹی آئی)؛ دیگر امیدوار بائیکاٹ کی وجہ سے صفر |
| اراکین کی تعداد | کل 145؛ حکومتی 93، اپوزیشن 52 (آصف محسود غیر حاضر) |
| گورنر کا اقدام | استعفیٰ واپس بھیجا، 15 اکتوبر کو طلب |
خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ اجلاس صوبائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جو سہیل آفریدی کی 90 ووٹوں سے منتخب ہونے اور گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری سے ایک نئی راہنمائی کی بنیاد رکھے گا، جو پی ٹی آئی کی اکثریت (93 اراکین) کی طاقت کو ثابت کرتا ہے۔ گنڈاپور کا پراعتماد دفاع اور عمران خان کی قربانیوں کا ذکر جماعتی وفاداری کو مضبوط کرتا ہے، جو 19 ماہہ معاشی بہتری (218 ارب روپے کا اضافہ) کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کر رہا ہے۔ اپوزیشن کا واک آؤٹ اور غیر قانونی عمل کا الزام سیاسی توازن کی جدوجہد کو واضح کرتا ہے، جو گورنر کنڈی کے استعفیٰ واپس بھیجنے سے مزید الجھا رہا ہے۔
اسپیکر سواتی کی رولنگ آئین کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے، جو انتخابی عمل کو شفاف رکھے گی، جبکہ 4 امیدواروں کی فہرست صوبائی اتحاد کی تلاش کو اجاگر کرتی ہے۔ جنید اکبر کی تنبیہ غداری کے خلاف جماعتی نظم کو مضبوط کرتی ہے، جو انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کی خوشی کی لہر عوامی حمایت کو بڑھاتی ہے، جو نئی قیادت کی ذمہ داریوں کو واضح کرتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اجلاس استحکام کی آزمائش ہے، جو صوبے کی ترقی کی بنیاد رکھے گا، بشرطیکہ سیاسی اتفاق رائے برقرار رہے – یہ ایک نئی قیادت کا آغاز ہے جو صوبائی مسائل کو حل کر سکتی ہے





















