امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل نہ کیا تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ داخل ہو کر حماس کو ختم کرنے کا حکم دینے سے گریز نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے حماس کے ساتھ ایک سیاسی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت خطے میں امن قائم رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، “میں نے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اچھا برتاؤ کریں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو حماس کو ختم کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیلی فوج محض دو منٹ میں غزہ کے اندر داخل ہو کر حماس کا مکمل خاتمہ کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف خطے کے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا ہے بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فلحال جنگ بندی برقرار رہے
صدر ٹرمپ نے تاہم واضح کیا کہ وہ فی الحال کشیدگی کم رکھنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے مطابق، “میں معاملے کو ٹھنڈا رکھنا چاہتا ہوں۔ ہم اس وقت جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر حماس نے غلط قدم اٹھایا تو پھر کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں غزہ میں عارضی جنگ بندی کے باوجود فریقین کے درمیان تناؤ برقرار ہے، اور معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پہلے بھی دی جا چکی ہے واضح وارننگ
یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ نے حماس کو کھلی وارننگ دی ہو۔ چند روز قبل بھی انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ کیا، تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے میں دیر نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس نے اب تک 28 میں سے زیادہ تر یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بقول، “حماس کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے۔ اگر انہوں نے وعدہ پورا نہیں کیا، تو میں اسرائیل کو حکم دوں گا کہ وہ دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں میں داخل ہو جائے۔”
“اسرائیل چاہے تو حماس کو سبق سکھا سکتا ہے”
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اسرائیلی فوجی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “اگر اسرائیل چاہے تو وہ حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہے اور اگر وہ متحرک ہوئی تو حماس کا وجود ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
ان کے مطابق، موجودہ حالات میں امریکا چاہتا ہے کہ غزہ میں مزید انسانی نقصان نہ ہو، لیکن حماس کے رویے نے امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا تازہ بیان نہ صرف غزہ کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ یہ امریکا کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی سمت کا عندیہ بھی دیتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی بظاہر “امن کے ساتھ دباؤ” کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے، جس میں ایک طرف جنگ بندی کی حمایت اور دوسری جانب فوجی دھمکیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی ان کے انتخابی بیانیے کے عین مطابق ہے، جس میں وہ خود کو “طاقت کے ذریعے امن” کا علمبردار ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، اگر اسرائیل کو دوبارہ غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ملی تو یہ نہ صرف خطے میں نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے بلکہ امریکا کے امن قائم رکھنے کے دعوے پر بھی سوال اٹھا سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا امن اب ایک نازک دھاگے سے بندھا ہوا ہے اور یہ دھاگا ٹرمپ کے ایک اشارے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔





















