کراچی:سندھ میں رواں برس ریبیز کے باعث پہلی ہلاکت سامنے آ گئی ہے، جبکہ کراچی میں آوارہ کتوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سال کے پہلے ہی مہینے میں شہر کے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں میں ہزاروں افراد سگ گزیدگی کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ صحت کے بجٹ پر بھی اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع سانگھڑ کے شہر جھول سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ بچی ڈیڑھ ماہ قبل آوارہ کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئی تھی۔ مختلف سرکاری اسپتالوں میں بروقت اور مکمل علاج فراہم نہ کیے جانے کے باعث بچی میں پانی اور ہوا سے خوف جیسی خطرناک علامات ظاہر ہو گئیں، جس کے بعد اسے کراچی کے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ گزشتہ روز جانبر نہ ہو سکی۔
کراچی کے مختلف اسپتالوں میں سگ گزیدگی کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انڈس اسپتال میں 1500، جناح اسپتال میں 800، سول اسپتال میں 400 سے زائد، قطر اسپتال میں 500 سے زائد، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال میں 128، لیاقت نیشنل اسپتال میں 10 اور سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال میں 50 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ان تمام اعدادوشمار کو جمع کیا جائے تو کراچی میں سگ گزیدگی کے کیسز کی مجموعی تعداد 3438 سے تجاوز کر چکی ہے۔ گزشتہ سال شہر کے دو بڑے سرکاری اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 20 اموات رپورٹ ہوئیں۔
سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشد خانزادہ کے مطابق ریبیز پریوینشن کلینک میں روزانہ دو اقسام کے مریض آتے ہیں، جن میں نئے اور فالو اَپ کیسز شامل ہوتے ہیں۔ یومیہ مجموعی طور پر 100 سے زائد مریض رجوع کرتے ہیں، جن میں 30 سے 40 نئے کیسز ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر راشد خانزادہ نے بتایا کہ رواں سال اب تک اسپتال میں 1610 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 568 نئے کیسز شامل ہیں۔ انہوں نے ریبیز ویکسین سے متعلق اعدادوشمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2023 میں اینٹی ریبیز ویکسین کی 7,903 ڈوزز لگائی گئیں، مالی سال 2024 میں یہ تعداد 12,709 رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں 17,157 ڈوزز استعمال ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی 8,809 ڈوزز لگ چکی ہیں، اور امکان ہے کہ سال کے اختتام تک یہ تعداد 17 سے 18 ہزار تک پہنچ جائے گی۔
ڈاکٹر راشد خانزادہ کے مطابق اینٹی ریبیز ویکسین کی ایک ڈوز کی قیمت 1200 سے 1800 روپے کے درمیان ہے، جبکہ اس کے ساتھ درد کش ادویات، اینٹی بایوٹکس، پٹیاں اور اے ڈی ایس انجیکشن بھی دینا پڑتے ہیں۔ صرف مالی سال 2025 میں اے آر وی ویکسینز پر 2 کروڑ 57 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو صحت کے مجموعی بجٹ پر ایک اضافی دباؤ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک اسپتال میں اخراجات کی یہ صورتحال ہے تو سندھ بھر کے اسپتالوں میں مجموعی اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، حالانکہ یہ رقم دیگر معمول کے مریضوں پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔
ڈاکٹر راشد خانزادہ نے خبردار کیا کہ سال بہ سال سگ گزیدگی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور اگر ریبیز پر قابو پانا ہے تو آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ قیمتی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں آج تک ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد کوئی مریض جانبر نہیں ہو سکا۔
عوام کو آگاہی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سگ گزیدگی کے فوراً بعد زخم کو صابن اور صاف پانی سے 15 سے 20 منٹ تک اچھی طرح دھونا چاہیے، اس کے بعد زخم کو اسٹیرلائز کیا جائے۔ زخم پر ٹانکے نہ لگوائیں اور نہ ہی ایسی ڈریسنگ کریں جس سے جراثیم باہر نکلنے کے بجائے اندر ہی رہیں اور دماغ تک پہنچنے کا خطرہ بڑھ جائے۔ زخم صاف کرنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویکسین کے دو طریقہ علاج موجود ہیں۔ اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ کتا ریبیز کا شکار تھا تو زخم کے اردگرد امیونوگلوبلن لگائی جاتی ہے، جس کا آدھا ڈوز متاثرہ شخص کے بازو میں دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ اینٹی ریبیز ویکسین بھی لگائی جاتی ہے۔ ویکسین 14 دن بعد اثر دکھانا شروع کرتی ہے، جبکہ امیونوگلوبلن فوری اینٹی باڈیز فراہم کرتی ہے جو ریبیز کے جراثیم کے خلاف کام کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو زخم دماغ کے قریب ہوں، ان کا علاج مزید سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے، کیونکہ بچوں میں اکثر چہرے پر کاٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں، جس سے جراثیم کے دماغ تک پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ریبیز کی علامات میں تیز بخار، متلی، قے، غنودگی، پانی اور ہوا سے خوف شامل ہیں، جبکہ مریض کی حالت اس حد تک بگڑ جاتی ہے کہ گلے میں پانی پھنسنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر راشد خانزادہ نے بتایا کہ اندرون سندھ بعض ناخواندہ افراد سگ گزیدگی کے بعد زخم پر مرچیں بھر دیتے ہیں یا سکے باندھ دیتے ہیں، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔ ان گھریلو ٹوٹکوں کے خاتمے کے لیے ریبیز سے متعلق عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے شکایت کی ہے کہ محلوں میں آوارہ کتوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، لیکن متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق کئی بار کتوں کو شہر سے دور چھوڑا گیا، مگر وہ دوبارہ آبادیوں میں واپس آ جاتے ہیں، جس سے خطرات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق سندھ خصوصاً کراچی میں سگ گزیدگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک سو فیصد مہلک بیماری ہے، جس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کو بچانا دنیا میں کہیں بھی ممکن نہیں رہا۔
ڈاکٹرز کے مطابق مسئلہ صرف ویکسین کی دستیابی کا نہیں بلکہ بروقت علاج، عوامی آگاہی اور آوارہ کتوں کی آبادی پر کنٹرول نہ ہونا اصل وجوہات ہیں۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر متاثرہ افراد زخم کو فوری طور پر صحیح طریقے سے صاف نہیں کرتے یا گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرتے ہیں، جس سے انفیکشن دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلن پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، جو صحت کے محدود بجٹ پر بھاری بوجھ ہے۔ اگر یہی وسائل بچاؤ اور آوارہ کتوں کی آبادی کم کرنے پر لگائے جائیں تو قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق بچوں میں ریبیز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر حملے چہرے اور گردن کے قریب ہوتے ہیں، جس سے وائرس کے دماغ تک پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا کہ سگ گزیدگی کے فوراً بعد زخم کو صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح دھونا اور فوری طبی امداد حاصل کرنا زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سندھ میں ریبیز سے پہلی ہلاکت دراصل ایک وارننگ ہے، جو یہ بتا رہی ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ اب محض بلدیاتی یا شہری انتظامیہ کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک مکمل عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہزاروں سگ گزیدگی کے کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ برسوں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی توجہ زیادہ تر ویکسین اور علاج پر مرکوز ہے، جبکہ اصل ضرورت مسئلے کی جڑ پر ضرب لگانے کی ہے۔ آوارہ کتوں کی بے تحاشا افزائش، ناقص کچرا نظام اور غیر مؤثر بلدیاتی حکمت عملی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ کتوں کو ایک علاقے سے پکڑ کر دوسرے علاقے میں چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطرے کو مزید پھیلانے کے مترادف ہے۔
اعدادوشمار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ہر سال صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ اینٹی ریبیز ویکسین پر خرچ ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود کیسز کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی سطح پر سنگین خامیاں موجود ہیں۔ اگر یہی پیسہ مربوط ڈاگ کنٹرول پروگرام، نیوٹرنگ، ویکسینیشن اور شہری صفائی پر خرچ کیا جائے تو نہ صرف اخراجات کم ہو سکتے ہیں بلکہ قیمتی جانیں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عوام میں آگاہی کا شدید فقدان ہے۔ آج بھی کئی علاقوں میں لوگ سگ گزیدگی کے بعد گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں، جو جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف علاج نہیں بلکہ بچاؤ کو ترجیح دے، کیونکہ ریبیز ایسی بیماری ہے جس میں ایک غلطی پوری زندگی نہیں، پوری جان لے لیتی ہے۔





















