بنگلادیش سے شکست کے بعد شاہد آفریدی برس پڑے، سلیکشن کمیٹی کی “سرجری” کا مطالبہ

سلیکشن کمیٹی کو یہ تک معلوم نہیں کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ کا کپتان بنانا چاہیے۔شاہد آفریدی

کراچی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بنگلادیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد قومی ٹیم کے سابق کپتان Shahid Afridi نے سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرجری کرنی ہے تو ٹیم کی نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کی ہونی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد اس طرح کی شکست سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر بڑے سوالات کھڑے کرتی ہے۔

کپتانی کے فیصلوں پر بھی تنقید

شاہد آفریدی نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو یہ تک معلوم نہیں کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ کا کپتان بنانا چاہیے۔

ان کے مطابق ٹیم کے اندر قیادت کے حوالے سے واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے ٹیم میں استحکام پیدا نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کے فیصلے ہی واضح نہ ہوں تو ٹیم کے نتائج بھی متاثر ہوتے ہیں۔

سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام

سابق کپتان نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر ٹیم میں تبدیلیاں کی گئیں اور اس عمل میں ایسے سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا جن کی ون ڈے فارمیٹ میں کارکردگی بہتر تھی۔

آفریدی کے مطابق ٹیم میں تبدیلیاں سوچ سمجھ کر اور فارمیٹ کے مطابق کی جانی چاہئیں، کیونکہ ہر فارمیٹ کی اپنی الگ حکمت عملی اور تقاضے ہوتے ہیں۔

نئے کھلاڑیوں کی جلدی شمولیت پر سوال

شاہد آفریدی نے سلیکشن پالیسی پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض نئے کھلاڑیوں کو اچانک قومی ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے حالانکہ انہوں نے صرف چند فرسٹ کلاس میچز ہی کھیلے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ مضبوط نہ ہو تو وہاں سے آنے والے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی بہتر تیاری کے ساتھ قومی ٹیم میں آئیں۔

کرکٹ ماہرین کی رائے

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کے خلاف سیریز میں شکست نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کے سلیکشن سسٹم اور ٹیم مینجمنٹ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کے مطابق ٹیم میں بار بار تبدیلیاں اور واضح حکمت عملی کا فقدان کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے لیے ایک مستقل پلان اور مضبوط ڈومیسٹک نظام انتہائی ضروری ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی بہتر انداز میں تیار ہو سکیں۔

شائقین کرکٹ کا ردعمل

سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد نے شاہد آفریدی کے بیان پر ردعمل دیا ہے۔

کچھ مداحوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے انتخاب کے طریقہ کار میں شفافیت اور تسلسل ہونا چاہیے۔

دوسری جانب بعض افراد کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ناکامی صرف سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کے معاملات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں اور حالیہ سیریز کی شکست نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

ان کے بقول قومی ٹیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ سلیکشن پالیسی واضح اور مستقل ہو تاکہ کھلاڑیوں کو اعتماد اور استحکام مل سکے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بہتر کیا جائے اور سلیکشن کے فیصلے میرٹ پر ہوں تو پاکستان ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین