آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کی سخت وارننگ، تعاون نہ ملا تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے

یہ صرف امریکا کی ذمہ داری نہیں کہ وہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت کرے۔ٹرمپ

واشنگٹن / لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک عالمی تیل کی اہم گزرگاہ Strait of Hormuz کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہیں کرتے تو NATO کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم انہیں نہیں لگتا کہ تہران اس مرحلے پر کسی معاہدے کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر عالمی رابطے

امریکی صدر نے بتایا کہ واشنگٹن اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے تقریباً سات ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ان ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بحری جہاز اور فوجی وسائل فراہم کر کے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہازوں کے لیے سیکیورٹی یقینی بنائیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے میں اسرائیل بھی امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے قریبی رابطہ موجود ہے۔

نیٹو کے مستقبل پر بھی سوال

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر نیٹو ممالک اس مسئلے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیتے تو اس فوجی اتحاد کا مستقبل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں اس کی حفاظت کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ صرف امریکا کی ذمہ داری نہیں کہ وہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت کرے۔

شی جن پنگ سے ملاقات میں تاخیر کا امکان

امریکی صدر نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں Xi Jinping کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات اسی صورت میں فائدہ مند ہو گی جب وہ ممالک جو ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

عالمی ردعمل محتاط

واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے علاقے میں تعینات کریں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق اب تک کئی ممالک اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا کی جانب سے اس تجویز پر تحفظات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔

عالمی امور کے ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس راستے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ بڑھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس معاملے کو عالمی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

عوامی ردعمل

عالمی سطح پر اس بیان پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ایک مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے جبکہ بعض حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس بیان پر بحث جاری ہے اور بہت سے صارفین اسے امریکا کی جانب سے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔

ان کے بقول امریکا کی جانب سے نیٹو کے مستقبل کو اس مسئلے سے جوڑنا ایک بڑا سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد اتحادی ممالک کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی طاقتیں اس معاملے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں یا خطے کی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین