تحفظ ناموسِ رسالتؐ کانفرنس سے ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری کا خصوصی خطاب

ناموسِ رسالت ﷺ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان کا مرکز ہے: ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) پنجاب قرآن بورڈ اور محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام یومِ تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے موقع پر ایک اہم تحفظ ناموسِ رسالت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے جید علما، مذہبی شخصیات اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان اور ممبر قومی پیغامِ امن کمیٹی ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا موضوع کسی ایک فرد، جماعت یا مسلک تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان اور عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ محبت حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کے بلند مقام اور عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں اور اتحاد و یگانگت کے ساتھ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں علماء کرام نے رسول اکرم ﷺ کی شان و مقام کے تحفظ کے لیے علمی اور فکری خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں بھی علما نے ناموسِ رسالت ﷺ کے دفاع کے لیے تاریخی کردار ادا کیا اور اس حوالے سے عوام میں شعور بیدار کیا۔

اسے بھی پڑھیں: ڈاکٹر میر محمد آصف اکبرکی قیادت میں قومی پیغام امن کمیٹی پاکستان کے وفد کا 3روزہ دورہ بلوچستان

تقریب میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی، خطیب و امام بادشاہی مسجد اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری، ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈی جی اوقاف شاہد حسین کلیانی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مولانا زبیر حسن اشرفی، مولانا مجاہد عبد الرسول اور مولانا مختار احمد ندیم سمیت دیگر علما اور معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس موقع پر مقررین نے حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد اور اخوت کو فروغ دیتے ہوئے ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ہمیشہ متحد رہنا چاہیے۔

تحفظ ناموسِ رسالتؐ کانفرنس سے ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری کا خصوصی خطاب

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا میں ناموسِ رسالت ﷺ کا موضوع محض ایک مذہبی یا جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے، ایمان اور روحانی وابستگی کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس حوالے سے کوئی گفتگو، کانفرنس یا علمی نشست منعقد ہوتی ہے تو اس کا مقصد صرف ایک تقریب منعقد کرنا نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دلوں میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت اور عقیدت کو مزید مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ پنجاب قرآن بورڈ اور محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں علماء، مذہبی رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کرکے اس حساس اور اہم مسئلے پر اپنا مؤقف واضح کیا۔

اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی شان و عظمت کا تحفظ ہمیشہ مسلمانوں کی اولین ترجیح رہا ہے۔ ابتدائی اسلامی دور سے لے کر آج تک علماء، محدثین، فقہاء اور مفکرین نے مختلف انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا۔ انہوں نے نہ صرف علمی اور فکری سطح پر حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا جواب دیا بلکہ مسلمانوں میں عشقِ رسول ﷺ کی روح کو بھی زندہ رکھا۔ یہی روایت آج بھی جاری ہے اور اس طرح کی کانفرنسیں اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری کا یہ بیان کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا موضوع کسی ایک فرد، جماعت یا مسلک تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان کا مرکز ہے، دراصل ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسلام میں حضور اکرم ﷺ کی محبت ایمان کا لازمی جز ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور محبت ہی دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محبت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں حضور ﷺ کی تعلیمات کو رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔

موجودہ دور میں جب دنیا ایک گلوبل گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات اور نظریات تیزی سے پھیلتے ہیں، اس وقت ناموسِ رسالت ﷺ کے موضوع کی حساسیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ مغربی دنیا میں اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر بعض اوقات ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ردعمل کو جذبات کے بجائے حکمت، علم اور اتحاد کے ساتھ ظاہر کریں تاکہ اسلام کا اصل پیغام دنیا تک مثبت انداز میں پہنچ سکے۔

پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس موضوع کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ یہاں کی بنیاد ہی اسلام کے نام پر رکھی گئی تھی۔ پاکستان کے آئین میں بھی ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کو اہم مقام حاصل ہے اور اس حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ تاہم قانون کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور اور اخلاقی تربیت بھی نہایت ضروری ہے تاکہ معاشرے میں احترامِ رسالت ﷺ کا جذبہ مضبوط ہو۔

صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی جانب سے اسلامی تاریخ اور برصغیر کے علماء کے کردار کا ذکر بھی انتہائی اہم ہے۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے علماء نے ناموسِ رسالت ﷺ کے دفاع کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ انہوں نے علمی کتابیں تحریر کیں، مناظرے کیے اور عوام میں شعور بیدار کیا۔ اس خطے میں عشقِ رسول ﷺ کی روایت صوفیاء اور علماء دونوں کے ذریعے پروان چڑھی اور آج بھی یہی جذبہ یہاں کے مسلمانوں کی پہچان ہے۔

تاہم اس موضوع کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کا حقیقی تقاضا صرف نعرے یا جذباتی اظہار نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل بھی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی صبر، برداشت، عدل، رحم اور اخلاقِ حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اگر مسلمان اپنی عملی زندگی میں ان اصولوں کو اپنالیں تو وہ خود بخود اسلام کا بہترین تعارف بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ علماء اور دینی اداروں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ نئی نسل کو سیرتِ طیبہ سے روشناس کرائیں۔ جدید دور میں نوجوان نسل مختلف فکری چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں علمی اور فکری بنیادوں پر حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ جب نوجوان نسل کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ مضبوط ہوگا تو وہ خود بخود ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے شعوری کردار ادا کرے گی۔

تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے حوالے سے اتحادِ امت بھی انتہائی اہم عنصر ہے۔ بدقسمتی سے مسلم معاشروں میں مسلکی اختلافات بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ مشترکہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ ناموسِ رسالت ﷺ ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ علماء اور مذہبی قیادت اس موضوع کو اتحاد اور یکجہتی کے لیے استعمال کریں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ محض ایک قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، علم اور حکمت کے ساتھ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچائیں اور باہمی اتحاد کو فروغ دیں۔ اگر امتِ مسلمہ اس سمت میں سنجیدگی کے ساتھ قدم اٹھائے تو نہ صرف ناموسِ رسالت ﷺ کا حقیقی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ دنیا میں اسلام کا روشن اور پرامن چہرہ بھی نمایاں ہو کر سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین