شہید علی لاریجانی کے عہدے پر تعینات ہونے والے نئے سیکرٹری محمد باقر کون ہیں؟

محمد باقر ذوالقدر کا شمار ایران کے بااثر سیکیورٹی اور عسکری حلقوں میں ہوتا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)گزشتہ ہفتے امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی جگہ محمد باقر ذوالقدر کو نیا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد باقر ذوالقدر کی تقرری کی باقاعدہ منظوری سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی دے دی ہے۔

یہ تقرری ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو اندرونی اور بیرونی سطح پر سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل ملک میں دفاعی اور سلامتی سے متعلق پالیسی سازی کا سب سے اہم ادارہ تصور کیا جاتا ہے، اور اس کے سیکریٹری کا عہدہ نہایت کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

محمد باقر ذوالقدر کے بارے میں معلومات:

محمد باقر ذوالقدر کا شمار ایران کے بااثر سیکیورٹی اور عسکری حلقوں میں ہوتا ہے۔ وہ ماضی میں پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈر رہ چکے ہیں اور مختلف اہم ذمہ داریوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وہ پاسداران انقلاب کے مشترکہ عملے کے سربراہ، نائب سربراہ، وزارت داخلہ میں سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب ذمہ دار، اور آٹھ برس تک عدلیہ میں اسٹریٹجک امور کے نائب سربراہ کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حملے میں شہید ہونے والے علی لاریجانی ایران کے سینئر اور بااثر سیاستدانوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ماضی میں پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی لاریجانی نے امریکا کے خلاف سخت ردعمل دیا تھا اور وہ سابق امریکی صدر ٹرمپ پر کھل کر تنقید کرنے والے نمایاں ایرانی رہنماؤں میں شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق علی لاریجانی کو امریکا نے ایک رہائشی فلیٹ میں نشانہ بنایا، جو ان کی بیٹی کی ملکیت تھا، جہاں وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ موجود تھے۔

ان کی شہادت کے بعد اس اہم عہدے پر نئی تقرری کو ایران کی آئندہ پالیسی کی سمت کے تعین کے لیے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت اور اس کے فوری بعد محمد باقر ذوالقدر کی تقرری محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور ایران کی اسٹریٹجک سمت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو بیک وقت بیرونی دباؤ، ممکنہ عسکری خطرات اور اندرونی استحکام کے تقاضوں کا سامنا ہے۔

سب سے پہلے اگر علی لاریجانی کی شخصیت کو دیکھا جائے تو وہ محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک تجربہ کار پالیسی ساز تھے جنہوں نے پارلیمنٹ، سلامتی اور سفارتی محاذوں پر ایران کی نمائندگی کی۔ ان کی شہادت ایک بڑے خلا کو جنم دیتی ہے، کیونکہ وہ ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کا امریکا مخالف بیانیہ بھی ایران کی پالیسی میں ایک واضح اور مضبوط مؤقف کی علامت تھا۔

ایسے میں محمد باقر ذوالقدر کا انتخاب ایک سوچا سمجھا فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کا پس منظر خالصتاً عسکری اور سیکیورٹی نوعیت کا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران اس وقت زیادہ سخت اور سیکیورٹی مرکوز حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے۔ پاسداران انقلاب میں ان کے تجربے اور مختلف کلیدی عہدوں پر خدمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ریاستی سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ تقرری اس بات کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ ایران آنے والے وقت میں دفاعی معاملات کو مزید ترجیح دے گا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔ ایک ایسے شخص کو اس عہدے پر لانا جس کا تعلق براہ راست عسکری اداروں سے ہو، اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے خود کو مزید تیار کر رہا ہے۔

داخلی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کو اس وقت معاشی دباؤ، عوامی توقعات اور سیاسی استحکام جیسے مسائل درپیش ہیں۔ محمد باقر ذوالقدر جیسے سخت گیر سیکیورٹی پس منظر رکھنے والے رہنما کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ منظم اور مضبوط اقدامات کر سکتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس تبدیلی کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے گا۔ مغربی دنیا اسے ایران کے مزید سخت مؤقف کی علامت کے طور پر لے سکتی ہے، جبکہ ایران کے اتحادی اسے ایک دفاعی ضرورت کے طور پر دیکھیں گے۔ اس تقرری کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی ممکنہ طور پر زیادہ محتاط لیکن مضبوط انداز دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

مزید یہ کہ علی لاریجانی کی شہادت کا طریقہ کار بھی ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ اگر واقعی انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تو یہ خطے میں ایک نئے طرز کی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے، جہاں اہم شخصیات کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں محمد باقر ذوالقدر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف داخلی سیکیورٹی کو مضبوط کریں بلکہ ایسے خطرات کا پیشگی تدارک بھی کریں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ تقرری ایران کی پالیسی میں تسلسل کے ساتھ ساتھ ایک واضح تبدیلی کا بھی اشارہ دیتی ہے۔ تسلسل اس لحاظ سے کہ ریاستی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے، اور تبدیلی اس لحاظ سے کہ اب قیادت کا جھکاؤ زیادہ سیکیورٹی اور عسکری حکمت عملی کی طرف ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ محمد باقر ذوالقدر کس حد تک اس حساس ذمہ داری کو نبھاتے ہیں اور ایران کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران ایک نئے اور زیادہ سخت سیکیورٹی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہر فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر اور طاقت کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین