لندن / سڈنی :ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ صرف 11 منٹ کی اضافی نیند بھی دل کے دورے جیسے خطرناک امراض سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
آسٹریلیا، برازیل اور چلی کے محققین کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کم صحت مندانہ طرزِ زندگی، جس میں چھ گھنٹوں سے کم نیند اور محدود جسمانی سرگرمی شامل ہو، اسے معمولی حد تک بہتر بنانے سے بھی انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اگر کوئی فرد روزانہ صرف 11 منٹ اضافی نیند لے، تقریباً ساڑھے چار منٹ کی ہلکی ورزش کرے اور 60 گرام سبزیوں کا استعمال کرے تو دل کے سنگین امراض کے خطرات میں تقریباً 10 فیصد تک کمی ممکن ہے، جو بظاہر ایک معمولی تبدیلی کے باوجود ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مزید یہ کہ تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر یہی طرزِ زندگی مزید بہتر کر لیا جائے، یعنی روزانہ 8 گھنٹے مکمل نیند، 40 منٹ کی ورزش اور متوازن غذا کو معمول بنایا جائے تو دل کے امراض کا خطرہ 57 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، جو ایک بڑی کمی تصور کی جاتی ہے۔
اس تحقیق میں 53 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا، جن کی نیند، ورزش اور روزمرہ عادات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محققین نے یہ ڈیٹا جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر اسمارٹ واچز اور دیگر پہننے والے آلات کے ذریعے حاصل کیا، جس سے نتائج کو زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد بنایا گیا۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے بڑی تبدیلیوں کی نہیں بلکہ چھوٹے مگر مستقل اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق نیند کی کمی جسم میں اسٹریس ہارمونز کو بڑھاتی ہے، جو دل کے امراض سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، اس لیے نیند کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس تحقیق کو مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ اگر صرف چند منٹ کی نیند بڑھانے سے صحت بہتر ہو سکتی ہے تو یہ ایک آسان اور قابلِ عمل طریقہ ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو مصروف زندگی کے باعث بڑی تبدیلیاں نہیں لا سکتے۔
سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق جدید طرزِ زندگی کے لیے ایک اہم پیغام ہے، کیونکہ آج کے دور میں لوگ صحت کے لیے بڑے فیصلے لینے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ چھوٹی مثبت عادات بھی بڑے نتائج دے سکتی ہیں۔ ان کے بقول اگر عوام ان سادہ اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف دل کے امراض بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔





















