واشنگٹن / تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک غیر متوقع اور ڈرامائی موڑ سامنے آیا ہے، جہاں امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں میں 10 دن کی مہلت دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال اور جنگ کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، جو ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے پس منظر میں ایران کی جانب سے ایک اہم قدم سامنے آیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی جزوی بحالی کی اجازت دی گئی، جسے امریکا کے لیے ایک مثبت اشارہ یا سفارتی رعایت قرار دیا جا رہا ہے، اور اسی کے بعد واشنگٹن کی جانب سے یہ غیر معمولی نرمی دکھائی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیاں بھی تیز ہو چکی ہیں، تاہم اس مہلت نے وقتی طور پر صورتحال میں نرمی کا تاثر پیدا کیا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایک واضح سفارتی اشارہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا مکمل جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کی بحالی عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، اسی لیے اس معاملے میں نرمی دکھائی جا رہی ہے۔
عوامی و عالمی ردعمل
عالمی سطح پر اس فیصلے کو محتاط امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جہاں کچھ حلقے اسے کشیدگی کم ہونے کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ماہرین اسے وقتی حکمت عملی بھی قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین کے درمیان اس فیصلے پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ واقعی امن کی طرف قدم ہے یا محض جنگی حکمت عملی کا حصہ۔
سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا یہ یو ٹرن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق مکمل تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نرمی دکھانا اور امریکا کی جانب سے مہلت دینا ایک طرح کی سفارتی سودے بازی ہو سکتی ہے، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورت دیگر یہ مہلت ایک بڑے تصادم سے پہلے کی خاموشی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔





















