موٹر سائیکل سواروں کیلئے پیٹرول سبسڈی منصوبہ، ماہانہ کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز زیر غور

حکومتی منصوبے کے تحت پیٹرول پر سبسڈی صرف ٹو اور تھری ویلرز تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)وفاقی حکومت نے کم آمدن والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول سبسڈی کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل اور تھری وہیلرز رکھنے والے صارفین کو مخصوص کوٹے کے مطابق سستا پیٹرول فراہم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی گئی ہے جو اس وقت ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے، اور کامیاب آزمائش کے بعد اسے عوام کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

حکومتی منصوبے کے تحت پیٹرول پر سبسڈی صرف ٹو اور تھری ویلرز تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا بوجھ دیگر صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو سبسڈی دینے یا نہ دینے کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پیٹرول پمپس پر خصوصی سبسڈی نوزلز قائم کیے جائیں گے، جبکہ ہر پمپ پر دو موبائل فونز فراہم کیے جائیں گے جن کے ذریعے صارفین کو ایپ کے ذریعے تصدیق کے بعد سبسڈی والا پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام شہری شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اور حکومت کی جانب سے ہدفی سبسڈی کے ذریعے ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق ہدفی سبسڈی کا یہ ماڈل مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اگر اس پر شفاف طریقے سے عمل درآمد کیا جائے، کیونکہ اس سے واقعی مستحق افراد تک ریلیف پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے منصوبوں میں بدانتظامی یا تکنیکی مسائل سامنے آئے تو اس کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔

عوامی ردعمل

عوامی سطح پر اس تجویز کو ملا جلا ردعمل ملا ہے، جہاں کچھ افراد نے اسے مہنگائی کے دور میں ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایپ کے ذریعے نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے اور عام صارفین کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کا یہ اقدام ہدفی سبسڈی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر یہ نظام درست انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف عام شہریوں کو ریلیف دے گا بلکہ حکومتی وسائل کے ضیاع کو بھی کم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج اس منصوبے کے عملی نفاذ میں ہوگا، جہاں ٹیکنالوجی، انتظامی صلاحیت اور عوامی اعتماد تینوں عوامل اہم کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین