مذہب کے نام پر جنگ ناقابل قبول، جنگ کرنے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں: پوپ لیو

مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے اور امن میں پوشیدہ ہے۔پوپ

ویٹیکن سٹی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا Pope Leo نے مذہب کے نام پر جنگ کے جواز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے اقدامات انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

ویٹیکن میں St Peter’s Square میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو عناصر جنگ کو مذہبی بنیادوں پر درست قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت اور اخلاقیات دونوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے دوٹوک پیغام میں کہا کہ “جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا”، اور اس بات پر زور دیا کہ مذہب کو تشدد، نفرت یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔

پوپ لیو نے عالمی سطح پر جاری تنازعات کے تناظر میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے اور امن میں پوشیدہ ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ایران سے متعلق جنگ میں شامل بعض حلقوں کی جانب سے اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے اور پوپ کا یہ بیان اسی تناظر میں ایک اہم اخلاقی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور اور مذہبی اسکالرز کے مطابق پوپ لیو کا بیان ایک واضح اور مضبوط اخلاقی پیغام ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہب کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی و عوامی ردعمل

دنیا بھر میں اس بیان کو مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے، جہاں مختلف حلقوں نے اسے امن کے حق میں ایک مضبوط آواز قرار دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین پوپ کے اس مؤقف کو سراہتے نظر آ رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق پوپ لیو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں کو مذہبی رنگ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ پیغام نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی قیادت کو یاد دلاتا ہے کہ مذہب کا اصل مقصد انسانیت اور امن کا فروغ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی طاقتیں اس اصول کو اپنائیں تو بہت سے تنازعات کا پرامن حل ممکن ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین