خیبر پختونخوا میں بارشوں سے تباہی، چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 بچے اور خاتون جاں بحق

یہ سلسلہ منگل تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث مزید نقصانات کا خدشہ بھی موجود ہے

پشاور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)خیبر پختونخوا میں حالیہ شدید بارشوں نے تباہی مچا دی، جہاں مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث 8 بچوں اور ایک خاتون سمیت 9 افراد جاں بحق جبکہ 47 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Provincial Disaster Management Authority (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ حادثات زیادہ تر ضلع بنوں اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے، جہاں مسلسل بارشوں نے کمزور مکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 8 بچے اور ایک خاتون شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 26 مرد اور 21 بچے شامل ہیں، جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 6 گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث پیش آنے والے واقعات کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں اور Rescue 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

ادارے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے اور زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کمی نہ رکھی جائے، جبکہ امدادی سامان کی فراہمی کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ منگل تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث مزید نقصانات کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر حساس اور پہاڑی علاقوں کا رخ نہ کریں، اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔

ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کی شدت اور غیر متوقع پیٹرن میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں کمزور انفراسٹرکچر رکھنے والے علاقوں میں ایسے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

عوامی ردعمل

متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومت سے فوری امداد اور مستقل حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرین کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث ہونے والے جانی نقصانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول صرف فوری امدادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پاکستان کو اپنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین