مقامی وسائل سے امید کی کرن، وزیرستان بلاک سے گیس فراہمی میں اضافہ

وزیرستان بلاک سے مجموعی گیس فراہمی تقریباً 100 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک پہنچ چکی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملکی توانائی کے شعبے سے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیرستان بلاک میں اسپن وام-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار باقاعدہ طور پر شروع کر دی گئی ہے، جسے پاکستان کی توانائی خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم Ali Pervaiz Malik نے اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا، جبکہ منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی Mari Energies نے بتایا کہ اسپن وام-1 دریافت سے ملک کی توانائی سکیورٹی مزید مستحکم ہوگی۔

کمپنی کے مطابق اس کنویں سے ابتدائی طور پر یومیہ تقریباً 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہو رہی ہے، جبکہ وزیرستان بلاک سے مجموعی گیس فراہمی تقریباً 100 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک پہنچ چکی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے منصوبے کی تکمیل پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود اس منصوبے کو مکمل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔

ماڑی انرجیز کے مطابق اسپن وام-1 اور شیوا-1 کنوؤں کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر ہائیڈروکاربن وسائل کی ترقی ممکن ہوگی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ منصوبہ Oil and Gas Development Company Limited اور Orient Petroleum کے ساتھ مشترکہ شراکت (جوائنٹ وینچر) کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ وزیرستان میں مزید تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبے میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

ماہرین کی رائے

توانائی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر گیس کی پیداوار میں اضافہ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

عوامی ردعمل

عوامی سطح پر اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں توانائی کی قلت اور مہنگائی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق اسپن وام-1 منصوبہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان مشکل علاقوں میں بھی قدرتی وسائل کو بروئے کار لا سکتا ہے۔

ان کے بقول اگر اس طرح کے منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ مستقبل میں برآمدات کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین