کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان 45 روزہ سیز فائر پر پیشرفت

دوسرے مرحلے میں ایک باضابطہ معاہدے کے ذریعے جنگ کے مکمل خاتمے کی کوشش کی جائے گی

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے اور 45 روزہ سیز فائر کی تجویز زیر غور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ہونے والی اس پیش رفت کو جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ سیز فائر دو مرحلوں پر مشتمل ہوگا، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران دونوں فریقین کے درمیان مستقل امن کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

سیز فائر کا مجوزہ پلان

رپورٹس کے مطابق اس عارضی جنگ بندی کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور دونوں فریقین کے درمیان ماحول بہتر بنایا جا سکے۔

دوسرے مرحلے میں ایک باضابطہ معاہدے کے ذریعے جنگ کے مکمل خاتمے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو اس عارضی سیز فائر میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

غیر یقینی صورتحال برقرار

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی بڑے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے ایک اہم موقع تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر یہ سیز فائر کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف جنگ میں کمی لا سکتا ہے بلکہ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے خطرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔

عالمی ردعمل

عالمی سطح پر اس ممکنہ پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک اور تنظیمیں جنگ بندی کی حمایت کر رہی ہیں تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ سیز فائر تجویز دراصل دونوں فریقین کی تھکن اور بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے۔ ان کے بقول یہ ایک موقع ضرور ہے، لیکن مستقل امن کے لیے سنجیدہ اور طویل المدتی مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو خطہ مزید خطرناک تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین