گیس بحران شدت اختیار کر گیا، گھریلو صارفین کیلئے مزید کٹوتیوں پر غور

گھریلو صارفین کو صرف مخصوص اوقات میں، یعنی کھانا پکانے کے دوران گیس فراہم کی جا رہی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملک میں گیس بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی میں مزید کٹوتیوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں ہنگامی نوعیت کے فیصلوں پر بھی مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں گیس راشن بندی کی تجویز بھی زیر غور آئی، تاہم وفاقی وزرا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام سے عوامی بے چینی میں اضافہ اور سیاسی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

اس وقت گھریلو صارفین کو صرف مخصوص اوقات میں، یعنی کھانا پکانے کے دوران گیس فراہم کی جا رہی ہے، تاہم حکام ایک گھنٹہ مزید کمی پر غور کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

بحران کی بڑی وجہ کیا ہے؟

ذرائع کے مطابق قطر سے ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کی فراہمی معطل ہونے کے باعث بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ ایک ایل این جی ٹرمینل پہلے ہی بند ہے اور دوسرا بھی محدود سپلائی کے بعد بند ہو چکا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔

صنعت اور ٹرانسپورٹ بھی متاثر

اجلاس میں بتایا گیا کہ سی این جی اسٹیشنز کے لیے گیس دستیاب نہیں، جبکہ مقامی گیس کی فراہمی بھی پہلے ہی محدود کی جا چکی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید یہ کہ وزیر خوراک کی جانب سے تجویز دی گئی کہ گیس کو گھریلو صارفین سے ہٹا کر کھاد بنانے والے کارخانوں کو فراہم کیا جائے تاکہ زرعی بحران سے بچا جا سکے، تاہم اس تجویز کی بھی مخالفت کی گئی۔

آئندہ خطرات

ذرائع کے مطابق گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے کے باعث ایل این جی کی ضرورت میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں بھی فرنس آئل کے برابر پہنچ چکی ہیں، جس سے توانائی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کی رائے

توانائی ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر متبادل انتظامات نہ کیے گئے تو ملک میں گیس اور بجلی دونوں کے بحران میں شدت آ سکتی ہے، اور اس کے اثرات معیشت اور عوام دونوں پر پڑیں گے۔

عوامی ردعمل

عوام کی جانب سے پہلے ہی گیس کی لوڈشیڈنگ پر شدید شکایات سامنے آ رہی ہیں، اور مزید کٹوتیوں کی خبروں نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق موجودہ بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے بقول وقتی فیصلے بحران کو وقتی طور پر سنبھال سکتے ہیں، مگر مستقل حل کے لیے مقامی وسائل اور متبادل توانائی ذرائع پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے مہینوں میں توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین