لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے لیا ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، ملک میں بھی پیٹرولیم نرخ کم کر دیے جائیں گے۔
حکمران اتحاد کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، ریاض پیرزادہ، بیرسٹر عقیل ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت مختلف جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کو موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
اجلاس کے بعد وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس اجلاس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے، جبکہ وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے شرکاء کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
اسے بھی پڑھیں: پاکستان سالانہ کتنے ارب ڈالر کی خوراک ضائع کرتا ہے؟ رپورٹ میں اہم انکشافات
انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا، اور وزراء نے واضح کیا کہ حالات معمول پر آتے ہی قیمتوں میں کمی کر دی جائے گی۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا حکمرانی کا بحران بھی ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ اجلاس اور اس میں دی جانے والی یقین دہانیاں بظاہر وقتی تسلی کا ذریعہ تو بن سکتی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ “حالات معمول پر آتے ہی قیمتیں کم کر دی جائیں گی” ایک ایسا مبہم مؤقف ہے جس میں نہ کسی ٹائم فریم کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی واضح کیا گیا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جن کے بہتر ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین زیادہ تر عالمی منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ حکومت کا کردار صرف قیمتوں میں اضافے کی منظوری تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا مکمل ریلیف عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا؟ ماضی میں کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی، جس سے عوامی اعتماد مزید مجروح ہوا۔
مزید برآں، حکومت کی جانب سے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا عمل بھی محض ایک رسمی کارروائی محسوس ہوتا ہے۔ ایسے اجلاسوں میں اکثر حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی بحث کے بجائے رسمی حمایت کا اظہار کیا جاتا ہے، جو جمہوری عمل کی روح کے منافی ہے۔ اگر واقعی اتحادی جماعتیں عوامی نمائندہ ہونے کا حق ادا کرنا چاہتی ہیں تو انہیں ان فیصلوں پر کھل کر سوال اٹھانا چاہیے جو براہ راست عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی پر ہی پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی بڑی آبادی خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہی ہے، وہاں ایسے فیصلے معاشی عدم استحکام کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ حکومت ہمیشہ ہنگامی اقدامات کا ذکر تو کرتی ہے، لیکن طویل المدتی پالیسیوں کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے بنیادی مسائل پر سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ جب تک ان بنیادی چیلنجز کو حل نہیں کیا جائے گا، تب تک ہر چند ماہ بعد یہی صورتحال دوبارہ سامنے آتی رہے گی۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت کی موجودہ حکمت عملی زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہے نہ کہ پیشگی منصوبہ بندی پر۔ عوام کو وقتی بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شفافیت، واضح پالیسی اور حقیقی ریلیف ہی وہ عوامل ہیں جو عوامی اعتماد بحال کر سکتے ہیں، بصورت دیگر ایسے بیانات محض الفاظ کی حد تک ہی محدود رہیں گے۔





















