اسلام آباد / واشنگٹن / تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے دوران ایک بڑی سفارتی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضا مند ہو گئے ہیں، جسے خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ جنگ بندی پاکستان کی اعلیٰ قیادت، وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif اور فیلڈ مارشل Asim Munir کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جنگ بندی کا اعلان اور شرائط
امریکی صدر Donald Trump نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کو دوطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر حملے اور بمباری عارضی طور پر معطل کرے گا، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب طویل المدتی امن معاہدے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روکے گئے تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی، تاہم یہ عمل مکمل تکنیکی اور عسکری ہم آہنگی کے ساتھ ہوگا۔
اسلام آباد میں مذاکرات
اہم پیش رفت کے تحت دونوں ممالک نے اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جہاں 10 اپریل سے باضابطہ بات چیت شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں اور ان کا مقصد ایک مستقل اور جامع امن معاہدہ طے کرنا ہوگا۔
عالمی منڈیوں پر اثرات
جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر فوری ردعمل دیکھنے میں آیا:
- برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد کمی
- امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں گراوٹ
- ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی
- جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس ↑ 4.5٪
- جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ↑ 5.5٪
ماہرین کے مطابق یہ وقتی ریلیف ہے، اور اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو قیمتیں پھر بڑھ سکتی ہیں۔
پس منظر
یاد رہے کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور ڈیڈ لائن بھی دی گئی تھی، جبکہ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی تھی جب سخت بیانات اور ممکنہ حملوں کے خدشات سامنے آئے۔
ایسے نازک وقت میں پاکستان کی سفارتکاری نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے میں مدد دی۔
سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جس نے نہ صرف خطے میں اپنا کردار مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت منوائی۔
ان کے بقول دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک “ونڈو آف آپرچونٹی” ہے، جسے مستقل امن میں تبدیل کرنا اب سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔





















