لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) ننھی ڈیجیٹل میڈیا اسٹار اور معروف چائلڈ کریئیٹر زرتاشہ کاشف (تاشو) نے اپنی فیملی کے ہمراہ مرکزی سیکرٹریٹ منہاج القرآن انٹرنیشنل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری سے خصوصی ملاقات کی۔

مرکزی سیکرٹریٹ آمد پر کرنل (ر) خالد جاوید نے مرکزی سٹاف کے ہمراہ زرتاشہ کاشف اور ان کے اہلِ خانہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر زرتاشہ کاشف نے ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ننھی ڈیجیٹل کریئیٹر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے تخلیقی مواد کو سراہا اور ان کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی مثبت اور تعمیری سرگرمیاں معاشرے کے روشن مستقبل کی علامت ہیں۔

دورے کے دوران زرتاشہ کاشف نے منہاج یونیورسٹی لاہور، آغوش آرفن کیئر ہوم اور گرلز بورڈنگ کیئر انسٹیٹیوٹ کا بھی دورہ کیا۔ مختلف ادارہ جات کے سربراہان اور ڈائریکٹرز نے انہیں اداروں کی تعلیمی، فلاحی اور تربیتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
آغوش آرفن کیئر ہوم میں زرتاشہ کاشف نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا، ان کے ساتھ کھیلیں اور خوشی کے لمحات بانٹے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ان کے لیے بے حد خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔
زرتاشہ کاشف اور ان کی فیملی نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے تعلیمی و فلاحی منصوبوں کو سراہتے ہوئے ان خدمات کو ملک و قوم کے لیے قابلِ قدر قرار دیا اور ان اداروں کے قیام پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر زرتاشہ کاشف کے والد کاشف میر، والدہ ڈاکٹر صدف ابرار، بھائی ارمغان کاشف، چیئرمین فِٹ ویل ہب مسٹر شہزین، سی ای او فِٹ ویل ہب سنی گل، برطانیہ سے آئے مہمان سیلم، کرنل (ر) خالد جاوید اور طیب ضیاء بھی موجود تھے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ڈیجیٹل میڈیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں جہاں بڑے بڑے ادارے اور تجربہ کار افراد اپنی شناخت بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں کم عمر بچوں کا بطور کریئیٹر سامنے آنا ایک نئی اور اہم سماجی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ زرتاشہ کاشف (تاشو) جیسے ننھے ڈیجیٹل اسٹارز کی سرگرمیاں نہ صرف تفریح کا ذریعہ بن رہی ہیں بلکہ معاشرتی شعور، مثبت پیغام رسانی اور فلاحی اقدار کے فروغ میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔

زرتاشہ کاشف کا منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ اور اس کے ذیلی اداروں کا دورہ بظاہر ایک رسمی ملاقات محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کے اندر کئی گہرے سماجی اور تعلیمی پہلو پوشیدہ ہیں۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک کم عمر ڈیجیٹل کریئیٹر کو ایسے اداروں سے جوڑا جا رہا ہے جو تعلیم، تربیت اور فلاحی خدمات کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کو محض تفریح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مثبت اور تعمیری پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آج کے دور میں بچوں کی بڑی تعداد موبائل اور اسکرینز تک محدود ہو چکی ہے، جس کے باعث ان کی عملی زندگی، سماجی میل جول اور جذباتی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ جڑنے، خوشیاں بانٹنے اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے تو یہ ایک خوش آئند رجحان ہے۔ زرتاشہ کاشف کا آغوش آرفن کیئر ہوم میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اسی مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انہوں نے نہ صرف اپنی موجودگی سے بچوں کو خوش کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ جڑنا اور ان کی خوشیوں میں شریک ہونا ایک اہم انسانی فریضہ ہے۔
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تعلیمی اور فلاحی ادارے اب ڈیجیٹل انفلوئنسرز کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ یہ ادارے سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد، چاہے وہ کم عمر ہی کیوں نہ ہوں، معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل جیسے ادارے نہ صرف ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں بلکہ انہیں اپنی سرگرمیوں سے بھی جوڑ رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعے وسیع پیمانے پر مثبت پیغام پہنچایا جا سکے۔
تاہم اس رجحان کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا پر نمایاں ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جیسے کہ ان کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر اس کے اثرات، پرائیویسی کے مسائل، اور والدین کی ذمہ داریاں۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ والدین بچوں کی رہنمائی کریں اور ان کی سرگرمیوں کو ایک متوازن دائرے میں رکھیں تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا کے فوائد سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
زرتاشہ کاشف کے والدین کی موجودگی اور ان کی رہنمائی اس بات کی مثبت مثال ہے کہ اگر بچوں کو درست سمت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتے ہیں۔ اسی طرح اداروں کی جانب سے بچوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا بھی ایک صحت مند معاشرتی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زرتاشہ کاشف کا یہ دورہ محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑے رجحان کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں ڈیجیٹل میڈیا، تعلیم اور فلاحی خدمات آپس میں جڑ کر ایک نئی سماجی سمت متعین کر رہے ہیں۔ اگر اس رجحان کو دانشمندی، توازن اور مثبت نیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ نہ صرف بچوں کی شخصیت سازی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی، خدمت اور مثبت سوچ کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔























