سائنس دانوں نے صحت بخش فرنچ فرائز بنانے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا

اس تکنیک سے نہ صرف ذائقہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے

واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا کی یونیورسٹی آف الینوائے کے محققین نے فرنچ فرائز کو کم تیل میں بھی خستہ اور ذائقہ دار بنانے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے، جسے خوراک کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے طریقے میں روایتی فرائنگ کے ساتھ مائیکروویو کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے باعث فرائز کم تیل میں بھی بہتر انداز میں تیار ہوتے ہیں اور ان کی خستگی برقرار رہتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس تکنیک سے نہ صرف ذائقہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے صارفین نسبتاً صحت مند انداز میں فرنچ فرائز سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق کرنٹ ریسرچ اِن فوڈ سائنس اور جرنل آف فوڈ سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ فرنچ فرائز کو عام طور پر غیر صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ اسے ترک نہیں کرتے، اسی لیے سائنس دانوں نے اسے کم نقصان دہ بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

مطالعے میں بتایا گیا کہ روایتی حرارت فرائز کی خستگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ مائیکروویو ہیٹنگ تیل کے استعمال کو کم کرتی ہے جو صحت کے لیے بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین