بنوں کینٹ حملہ، دہشتگرد کئی دنوں تک لڑنے کے ارادے سے آئے تھے

دہشتگرد اپنے ساتھ انرجی ڈرنکس، انجکشنز، ادویات اور خوراک لے کر آئے تھے

ڈیرہ اسماعیل خان:بنوں کینٹ پر ہونے والا حالیہ دہشتگرد حملہ ایک بڑی اور منظم کارروائی تھی، جس میں حملہ آور لمبی لڑائی کی تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ وہ صرف روایتی خودکش حملہ کرنے نہیں، بلکہ کئی دنوں تک مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی بنا کر پہنچے تھے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق، دہشتگرد اپنے ساتھ انرجی ڈرنکس، انجکشنز، ادویات اور خوراک لے کر آئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک طویل جنگ کی منصوبہ بندی کے تحت حملہ کرنے آئے تھے۔
حملہ آوروں نے دھماکوں کے لیے دو ٹریکٹروں میں سات ٹن بارود لوڈ کیا تھا، جبکہ ایک زرنج لوڈر کے ذریعے کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ روایتی راستوں کے بجائے دریائے کرم کے راستے آئے تاکہ چیک پوسٹوں اور دیگر سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کر سکیں۔
مزید یہ کہ دہشتگردوں نے روایتی برقعے پہن رکھے تھے تاکہ وہ عام شہریوں میں گھل مل جائیں اور ان پر شک نہ کیا جا سکے، مگر سیکیورٹی فورسز کی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی نے ان کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔

 

 

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین