پاکستان سمیت کئی ممالک میں صارفین کو ایکس تک رسائی میں مشکلات، مسک کا سائبر حملے کا دعویٰ

امریکا میں بھی ایکس صارفین کو پلیٹ فارم تک رسائی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کی بندش کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کے باعث صارفین کو رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر گیا، جبکہ ایلون مسک نے سائبر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق لاکھوں صارفین نے اس حوالے سے شکایات درج کروائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایکس پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، مگر حکومتی ادارے خود بھی اسی پلیٹ فارم کو سرکاری بیانات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر کئی ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی بندش اور اس تک رسائی میں مشکلات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس دوران، ایکس کے مالک ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ پلیٹ فارم پر سائبر حملہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

سوشل میڈیا کی بندش پر نظر رکھنے والی مانیٹرنگ سروس ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق، پیر کے روز سہ پہر 3 بج کر 2 منٹ پر پاکستان میں صارفین کی جانب سے ایکس کے حوالے سے 65 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سروس میں مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ شکایات کی تعداد بڑھتی گئی اور رات 9 بج کر 32 منٹ تک یہ تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایکس پر پہلے ہی باضابطہ طور پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود، مختلف شہروں جیسے لاہور، راولپنڈی اور کراچی کے صارفین نے ایکس تک رسائی کے مسائل کی شکایات درج کروائیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے بتایا کہ پاکستان کے علاوہ امریکا میں بھی ایکس صارفین کو پلیٹ فارم تک رسائی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق، دن کے آغاز میں تقریباً 40 ہزار صارفین نے شکایت درج کروائی، جبکہ بعد میں 26 ہزار 279 صارفین نے ایکس کی بندش کی اطلاع دی۔ برطانیہ میں بھی 10 ہزار 800 سے زائد صارفین نے پلیٹ فارم کی خرابی کی شکایت کی۔ تاہم، ایکس کی بندش کی حتمی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی اور کمپنی نے اس حوالے سے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

انٹرنیٹ ٹریکنگ مانیٹر نیٹ بلاکس کے مطابق، شام 7 بج کر 17 منٹ پر عالمی سطح پر ایکس کو بندش کا سامنا تھا، تاہم اس کا تعلق کسی مخصوص ملک میں انٹرنیٹ میں رکاوٹ یا فلٹرنگ سے نہیں تھا۔

پاکستان میں ایکس پر پابندی کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود، حکومت کی جانب سے سروس کی بحالی کے حوالے سے کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں تقریباً 45 لاکھ صارفین استعمال کرتے تھے، مگر فروری 2024 میں عام انتخابات کے موقع پر اسے بلاک کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے وزیر اطلاعات عطا تارڑ سے رابطہ کیا، مگر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بحالی کے لیے کوئی بھی وقتی فریم دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود، پاکستان میں خود وزارت اطلاعات سمیت دیگر حکومتی ادارے جیسے وزیر اعظم ہاؤس اور وزارت خارجہ ایکس پر اپنے سرکاری بیانات جاری کرتے ہیں۔

سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں نے ایکس کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایکس پر پابندی کے کئی ہفتے بعد بھی حکومت اور ٹیلی کام ریگولیٹر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، اس بات سے انکار کرتی رہی کہ پلیٹ فارم کو بلاک کیا گیا ہے۔ تاہم، مارچ 2024 میں وزارت داخلہ نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ ایکس کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس پر بلاک کیا گیا تھا۔

اپریل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں وزارت داخلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایکس نے اپنے پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث قومی سلامتی اور امن عامہ کے مفاد میں یہ قدم اٹھایا گیا۔

حکومت نے دعویٰ کیا کہ ایکس نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور آرمی چیف کے خلاف توہین آمیز مہم میں ملوث اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے ایف آئی اے کی درخواستوں پر مناسب ردعمل نہیں دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سال سے زائد کی معطلی کے دوران، ایکس کی انتظامیہ نے صرف ایک بار عوامی سطح پر کوئی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین