پاکستان کی جانب سے قرضے کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کو 5 سے 7 ادارے فروخت کرنے کی یقین دہانی

حکومت نے آئی ایم ایف کو جولائی تک پی آئی اے کی فروخت مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے

پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کو پی آئی اے سمیت 5 سے 7 سرکاری ادارے فروخت کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے تاکہ ملک کو درپیش مالی مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری پر بھی غور جاری ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ نیویارک سٹی حکومت نے ہوٹل کے لیز معاہدے کو قبل از وقت ختم کرنے کا نوٹس دیا ہے، جس سے پاکستان کو تقریباً 80 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، نجکاری کمیشن مختلف اداروں کی فروخت کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ کچھ غیر ملکی کمپنیاں ان میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔

پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دلایا ہے کہ وہ پی آئی اے سمیت 5 سے 7 سرکاری ادارے فروخت کرے گی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے آئی ایم ایف کو جولائی تک پی آئی اے کی فروخت مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم روزویلٹ ہوٹل، نیویارک کے مستقبل کا فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا۔ نیویارک سٹی حکومت نے ہوٹل کی لیز کا 228 ملین ڈالر کا معاہدہ قبل از وقت ختم کرنے کا نوٹس دے رکھا ہے، جس کا اطلاق جولائی سے ہوگا۔ اس معاہدے کی قبل از وقت منسوخی سے پاکستان کو تقریباً 80 ملین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ عملی طور پر تعطل کا شکار نجکاری پروگرام کے تحت 5 سے 7 ادارے فروخت کرنے کی کوشش کی جائے گی، جن میں پی آئی اے، تین مالیاتی ادارے اور تین پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں۔ حکومتی حکام نومبر تک زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کو فروخت کرنے کے لیے پرامید ہیں۔

کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCOP) فیصلہ کرے گی کہ آیا مہنگے ترین روزویلٹ ہوٹل کو فروخت کیا جائے یا کسی مشترکہ معاہدے کے تحت لیز پر دیا جائے۔ یہ ہوٹل نیویارک کے ایک مہنگے علاقے میں واقع ہے اور اس میں 1,025 کمرے موجود ہیں۔ جولائی 2023 میں پاکستان نے اس ہوٹل کو نیویارک سٹی گورنمنٹ کو تارکین وطن کی رہائش کے لیے تین سالہ لیز پر دیا تھا۔ تاہم، نیویارک سٹی حکومت نے ایک سال قبل ہی اس معاہدے کو ختم کرنے کا نوٹس دے دیا، جو جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

شہری حکومت نے ہوٹل کو تیسرے سال کے لیے 210 ڈالر فی کمرہ کے حساب سے حاصل کیا تھا۔ پچھلے سال نومبر میں کابینہ کمیٹی نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کی وجہ سے اس تین سالہ معاہدے پر اثر پڑ سکتا ہے، جو 228 ملین ڈالر کا تھا۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ حکومت متبادل کاروباری امکانات تلاش کر رہی ہے، تاہم متعدد مالیاتی مشیر رکھنے کے باوجود روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

پاکستانی حکومت نے 2.1 ارب روپے کی لاگت سے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لین دین کے لیے جونز لینگ لاسل امریکہ کو مالیاتی مشیر کے طور پر رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، مالیاتی مشیر کو کامیاب فروخت کی صورت میں سیل ریونیو کا 0.95% بطور فیس دیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری جلد ہی ہوٹل کی فروخت کے طریقہ کار پر فیصلہ کرے گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کو کھلی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی سفارش کی ہے، تاہم CCOP نے ابھی تک اس رپورٹ کو باضابطہ فیصلے کے لیے زیر غور نہیں لایا۔

نجکاری کمیشن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اگر کسی غیر ملکی حکومت کو بین الحکومتی معاہدے کے تحت ہوٹل خریدنے میں دلچسپی ہو، تو اسے باضابطہ طور پر اپنی دلچسپی کا اظہار کرنا ہوگا۔ تاہم، دسمبر 2024 تک کسی بھی غیر ملکی حکومت نے ہوٹل خریدنے میں رسمی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ خصوصی کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ہوٹل کو کھلی اور مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کیا جائے۔ تاہم یہ فیصلہ نجکاری کمیشن پر چھوڑا گیا ہے کہ آیا ہوٹل کو براہ راست فروخت کرنا ہے، مشترکہ منصوبے کے تحت تیار کرنا ہے یا 99 سال کے لیے لیز پر دینا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پی آئی اے کو جولائی تک فروخت کر دیا جائے گا، جبکہ فیصل آباد، اسلام آباد اور گوجرانوالہ کی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں دسمبر تک نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔ حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) فرسٹ ویمن بینک کو مکمل کمرشل بینک کی حیثیت سے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور امکان ہے کہ مئی تک اس حوالے سے معاہدہ طے پا جائے گا۔ تاہم یو اے ای حکومت چاہتی ہے کہ یہ خریداری کھلی بولی کے بجائے حکومتوں کے درمیان معاہدے کے تحت ہو۔

حکومت زرعی ترقیاتی بینک کی فروخت کے لیے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کر رہی ہے اور اسے توقع ہے کہ نومبر تک یہ بینک فروخت ہو جائے گا۔ حکام نے آئی ایم ایف کو ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن آئندہ ماہ فروخت کر دی جائے گی، حالانکہ اس سے قبل بھی کئی بار دی گئی مہلتیں پوری نہیں ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین