سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو تہران پر بمباری کی جائے گی اور مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھائے تو گزشتہ دور کی طرح سخت تجارتی ٹیرف بھی لاگو ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی مزید معاشی پابندیاں اور ٹیرف بھی عائد کیے جائیں گے، جو ایرانی معیشت پر شدید اثر ڈالیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات جاری تھے، لیکن وہ کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔:
"اگر ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو بمباری ہوگی، لیکن ایک موقع ہے۔ اگر وہ معاہدہ نہ کرے تو میں 4 سال پہلے کی طرح ثانوی ٹیرف عائد کردوں گا۔”
یاد رہے کہ 2015 میں امریکا اور عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کر دی تھیں، اور اس کے بدلے معاشی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے 2017 سے 2021 کے دوران اپنے دور صدارت میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔ اس کے بعد ایران نے جوہری پروگرام میں دوبارہ پیش رفت کی اور یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گا۔
ایران نے حال ہی میں عمان کے ذریعے ٹرمپ کے نئے جوہری معاہدے کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کریں گے، کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔”