سال کے کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟

قدیم رومی کیلنڈر چاند کے مہینوں پر مبنی تھا، بالکل اسلامی قمری کیلنڈر کی طرح

اگر آپ نے کبھی غور کیا ہو تو سال کے کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے ہوتے ہیں، جبکہ فروری سب سے منفرد ہے کیونکہ یہ صرف 28 دنوں کا ہوتا ہے (لیپ ایئر میں 29 دن کا ہو جاتا ہے)۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔

آج جو کیلنڈر ہم استعمال کرتے ہیں، اسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے، جو دراصل جولین کیلنڈر پر مبنی ہے۔ جولین کیلنڈر قدیم روم میں رائج تھا اور اس میں وقت کے ساتھ کئی تبدیلیاں کی گئیں۔

قدیم رومی کیلنڈر چاند کے مہینوں پر مبنی تھا، بالکل اسلامی قمری کیلنڈر کی طرح ایک سال کی لمبائی تقریباً 365.25 دنوں پر مشتمل تھی، مگر مہینے 29 یا 30 دنوں کے ہوتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رومیوں نے ابتدا میں 10 مہینے والے کیلنڈر کا استعمال کیا، جس میں سال کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا اور تقریباً 60 دنوں کا کوئی شمار نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں 700 قبل مسیح میں ان 60 دنوں کو پورا کرنے کے لیے جنوری اور فروری کے مہینے شامل کیے گئے۔

مہینوں کی ترتیب کیسے بدلی؟

پہلے فروری سال کا آخری مہینہ ہوتا تھا، لیکن 424 قبل مسیح میں اسے دوسرے نمبر پر کر دیا گیا۔ بعد میں 46 قبل مسیح میں، جولیس سیزر نے کیلنڈر میں اصلاحات کیں اور مہینوں کو 30 یا 31 دنوں کا کر دیا، صرف فروری کو 29 دنوں کا رکھا، اور ہر چوتھے سال اس میں ایک دن کا اضافہ کر کے 30 دنوں کا کر دیا۔

لیکن پھر ایک اور تبدیلی آئی، جب رومی بادشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن کم کر دیا اور اسے 28 دنوں کا کر دیا۔ ساتھ ہی، اگست کے مہینے کو 31 دنوں کا بنا دیا تاکہ یہ جولائی (جولیس سیزر کے نام پر رکھا گیا مہینہ) کے برابر ہو سکے۔

یہی وجہ ہے کہ آج 7 مہینے 31 دنوں کے، 4 مہینے 30 دنوں کے، اور فروری صرف 28 دنوں کا ہوتا ہے۔ اگر لیپ ایئر ہو تو فروری میں 29 دن ہوتے ہیں۔

یہ سارا عمل رومی بادشاہوں کے اثر و رسوخ اور کیلنڈر کی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ہوا، جو آج بھی ہمارے نظام کا حصہ ہے!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین