پاکستان کرکٹ ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سابق کرکٹر اور کوچ باسط علی نے ٹیم کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے خاص طور پر بابر اعظم کی بیٹنگ پوزیشن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ انہیں اوپننگ پر کھیلانے کا مشورہ دیتے تھے، انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 344 رنز اسکور کیے۔ ابتدائی طور پر تین وکٹیں جلد گرنے کے باوجود مارک چیپمین اور ڈیرل مچل نے شاندار شراکت داری قائم کی۔ چیپمین نے 132 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے، جبکہ مچل نے 76 رنز بنائے۔ ڈیبیو کرنے والے محمد عباس نے بھی 26 گیندوں پر 52 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر ٹیم کو بڑا اسکور فراہم کیا۔
پاکستانی ٹیم نے ہدف کا تعاقب جارحانہ انداز میں کیا۔ اوپنرز عثمان خان (39) اور عبداللہ شفیق (36) نے 83 رنز کی شراکت داری قائم کی، مگر مڈل آرڈر زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکا۔ کپتان محمد رضوان 30 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ طیب طاہر، حارث رؤف، عاکف جاوید اور نسیم شاہ بھی جلدی آؤٹ ہوگئے۔
بابر اعظم نے 78 اور سلمان آغا نے 58 رنز بنا کر مزاحمت کی کوشش کی، لیکن ٹیم 44.1 اوورز میں 271 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی اور نیوزی لینڈ نے میچ 73 رنز سے جیت لیا۔
سابق کوچ باسط علی نے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں قومی ٹیم کی شکست پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر بابر اعظم کی بیٹنگ پوزیشن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا،
"بابر اعظم تیسرے نمبر پر کیوں کھیلے؟ چیمپئنز ٹرافی میں تو وہ اوپننگ کرتے تھے۔ اب کہاں ہیں وہ پروفیسرز جو کہتے تھے کہ اسے اوپننگ کرنی چاہیے؟ وہ اب سامنے کیوں نہیں آ رہے؟ انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے، بلکہ ایسے خود ساختہ کرکٹ پروفیسرز کو جوتے مارنے چاہئیں!”
باسط علی نے ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ غیر متوازن فیصلوں کی وجہ سے قومی ٹیم کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں تجربات ضرور کیے جائیں، لیکن کھلاڑیوں کو ان کی اصل صلاحیتوں کے مطابق مواقع دینا ضروری ہے۔
یہ شکست پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اور آگے آنے والے میچز میں ٹیم کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔