ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر درمیانی عمر میں متوازن اور صحت بخش غذائی عادات اپنائی جائیں تو بڑھاپے میں کئی دائمی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی خوراک صرف لمبی زندگی ہی نہیں دیتی بلکہ بڑھاپے میں بھی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ تحقیق ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے کی، جس میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی خوراک اور صحت کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، مچھلی، دودھ سے بنی اشیاء اور صحت بخش غذا کو شامل کرتے ہیں، ان کے 70 سال کی عمر تک کسی بڑی بیماری سے محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
کون سی خوراک فائدہ مند ہے؟
ماہرین کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے درج ذیل غذائیں اہم کردار ادا کرتی ہیں:
سبزیاں اور پھل
سالم اناج (جیسے جو، گندم، براؤن رائس)
گری دار میوے (بادام، اخروٹ، کاجو)
دالیں اور پھلیاں
مچھلی اور دودھ سے بنی معتدل غذائیں
یہ غذائیں جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں اور بڑھاپے میں بھی توانائی بحال رکھتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ زیادہ چکنائی والا گوشت، میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں بڑھاپے میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسے مسائل پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف طبی جرنل "نیچر میڈیسن” میں شائع ہوئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اگر بچپن یا نوجوانی میں خوراک متوازن نہ ہو تو کیا درمیانی عمر میں اچھی خوراک اپنا کر اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ بڑھاپے میں صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ابھی سے اپنی خوراک پر توجہ دیں اور صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں!