بجٹ میں تنخواہ داروں کے لیے خوشخبری،بجلی کی قیمتیں مزید کم ہوں گی

ترقیاتی بجٹ پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مالی معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔

پاکستان کے تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری! نئے بجٹ میں تنخواہ داروں کو ریلیف دینے اور بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے تمام اہداف پورے ہو چکے ہیں اور مئی میں معاہدے کی منظوری متوقع ہے۔ ترقیاتی بجٹ پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مالی معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔

اسلام آباد: وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے اچھی خبر ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی کی قیمتیں بھی مزید کم کی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں ریلیف دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے بلوں میں جولائی یا اس سے پہلے کمی کرنے کے لیے کام جاری ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ مئی میں اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ داروں کے لیے ریلیف کا مکمل منصوبہ تیار ہو چکا ہے، جسے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے تمام اہداف پورے کر لیے گئے ہیں۔ کچھ اہداف میں تھوڑی تاخیر ہوئی، لیکن وہ بھی اب مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی اور کلائمیٹ فنانسنگ کے لیے بھی فنڈز حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے لیے سرکاری اور نجی شعبے سے 98 فیصد تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ان تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے متعلقہ شعبوں کو بتا دیا جائے گا کہ کون سی تجاویز پر عمل ہو گا اور کون سی پر نہیں، ساتھ ہی اس کی وجوہات بھی بتائی جائیں گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ یکم جولائی سے حتمی شکل میں نافذ ہو جائے گا اور اس کے بعد اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی تاکہ اس پر فوری عمل شروع ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ تاجروں سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے، لیکن تاجر دوست اسکیم کو ٹیکس وصولی سے الگ رکھا جائے۔ ایک آسان ٹیکس فارم تیار کیا جا رہا ہے جسے ہر شخص خود بھر سکے گا۔ اب ٹیکس پالیسی کا شعبہ وزارت خزانہ کے ماتحت کام کرے گا۔

 وفاقی ترقیاتی بجٹ پر نظرثانی
دوسری جانب، وزارت خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے پہلے وفاقی ترقیاتی بجٹ پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت سرنڈر آرڈرز کے ذریعے فنڈز کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، وزارت خزانہ نے نظرثانی شدہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے زائد فنڈز واپس مانگ لیے ہیں۔ یہ فیصلہ مالی سال 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے شروع میں 1400 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے کم کر کے 1100 ارب روپے کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زائد فنڈز کو سرنڈر یا ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ 2025-26 کی تیاری کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین