گردوں کی مستقل بیماری دل کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

سی کے ڈی کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس سب سے عام ہیں

گردوں کی دائمی بیماری (سی کے ڈی) دل کی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ خون کی شریانوں کو سخت اور بند کر دیتی ہے۔ ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سی کے ڈی میں خون کے چھوٹے ذرات دل کے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

گردے ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت اہم ہیں، لیکن کبھی کبھی یہ آہستہ آہستہ اپنا کام ٹھیک سے کرنا بند کر دیتے ہیں۔ اس حالت کو گردوں کی دائمی بیماری یا سی کے ڈی کہتے ہیں۔ سی کے ڈی کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس سب سے عام ہیں۔ ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ سی کے ڈی والے لوگوں میں دل اور خون کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جسے قلبی بیماری یا سی وی ڈی کہا جاتا ہے۔

سی وی ڈی میں خون کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں یا بند ہو جاتی ہیں، جو دل کا دورہ یا فالج جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔ سائنسدان ہمیشہ سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سی کے ڈی دل کی بیماری کیوں بڑھاتا ہے۔ تاکائی کوڈی اور ان کی ٹیم کی ایک نئی تحقیق نے اس کا ممکنہ جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

انہوں نے خون میں موجود چھوٹے ذرات پر توجہ دی، جنہیں ایکسٹرا سیلولر ویسیکل کہتے ہیں۔ یہ ذرات خلیات کے درمیان پیغامات لے جانے والے چھوٹے ڈبوں کی طرح ہوتے ہیں۔ سی کے ڈی والے لوگوں میں، سائنسدانوں نے دیکھا کہ یہ چھوٹے ذرات خون کی نالیوں کے خلیوں کو نقصان دہ پیغامات بھیجتے ہیں۔ عام طور پر خون کی نالیوں کے ہموار پٹھوں کے خلیے شریانوں کو لچکدار اور صحت مند رکھتے ہیں، لیکن جب انہیں نقصان دہ پیغامات ملتے ہیں، تو وہ خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور شریانوں کو سخت کر دیتے ہیں، جو سی وی ڈی کا باعث بنتا ہے۔

یہ تحقیق دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نئے طریقوں کی طرف راہ ہموار کر سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو گردوں کی دائمی بیماری کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین