پی آئی اے نجکاری ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار

رواں مالی سال کسی دوسرے ادارے کی نجکاری بھی نہیں کی جاسکے گی

اسلام آباد:پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، اور اب اسے جون تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکومت رواں مالی سال میں کسی بھی ادارے کی نجکاری نہ کر سکی، جس سے 30 ارب روپے کے ہدف کو پورا کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ تاہم، فرسٹ وومن بینک کی نجکاری جولائی تک متوقع ہے، جس میں یو اے ای نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ تاخیر سے دوچار ہو گیا ہے۔ حکومت نے اس کی نجکاری کی تاریخ جون تک بڑھا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رواں مالی سال میں کوئی دوسرا ادارہ بھی نجکاری کے عمل سے نہیں گزر سکے گا، جس کی وجہ سے 30 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف پورا نہیں ہو سکا۔
بزنس سمٹ کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری رواں سال کی آخری سہ ماہی میں متوقع ہے۔
گزشتہ ماہ حکومت نے آئی ایم ایف کو مارچ میں نجکاری شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔ اب اظہار دلچسپی کا اشتہار اس ماہ کے آخر تک شائع کیا جائے گا، اور اس کے بعد عمل مکمل ہونے میں تین سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔
پی آئی اے کے منافع میں ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی دستاویزات عام نہیں کی گئیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ منافع آپریشنل ہے یا حسابی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پی آئی اے کی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب دو بولی دہندگان نے دستبرداری اختیار کی، اور ایک کی بولی کو حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔
نجکاری کے عمل کو شہباز حکومت نے گزشتہ سال اگست میں منظور کیا تھا، جس میں 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ تھا۔ تاہم، رواں مالی سال میں ایک بھی ادارے کی نجکاری نہ ہو سکی۔
فرسٹ وومن بینک کی نجکاری جولائی تک متوقع ہے، اور متحدہ عرب امارات نے اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کابینہ نے بینک کی مکمل کمرشل مینڈیٹ کے ساتھ نجکاری کی منظوری دے دی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری نے کہا کہ نجکاری میں پالیسیوں، عدالتی عمل، اور بیوروکریسی کی مستقل مزاجی میں کمی جیسے مسائل ہیں، جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری سے مسابقت، پیداوار، کم مہنگائی اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین