گھیا یا لوکی گرمیوں کی ایک مقبول سبزی ہے جو صحت کے بے شمار فوائد دیتی ہے، لیکن کیا اس کا چھلکا کھانا محفوظ ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ چھلکا فائبر اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن اسے اچھی طرح دھو کر اور نامیاتی گھیا استعمال کرنا چاہیے تاکہ کیڑے مار ادویات سے بچا جا سکے۔
ہندوستان اور پاکستان میں گھیا یا لوکی ایک مشہور سبزی ہے، جسے اس کے صحت بخش فوائد کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اس کا چھلکا کچھ موٹا ہوتا ہے، جو اندر کے نرم حصے کو محفوظ رکھتا ہے۔ عام طور پر لوگ اسے پکانے سے پہلے چھیل دیتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا چھلکا کھانا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اس بارے میں ماہرین سے رائے لی گئی ہے۔
لاہور کے ماہر غذائیات انور فیاض کہتے ہیں کہ گھیا غذائیت اور فائبر سے بھرپور سبزی ہے، لیکن چھلکے پر کیڑے مار ادویات اور اس کی ساخت کے بارے میں خدشات درست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھلکے میں فائبر بہت زیادہ ہوتا ہے، جو ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ بھرے رکھنے کا احساس دیتا ہے، جو وزن کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے علاوہ، چھلکا اینٹی آکسیڈنٹس اور ضروری وٹامنز بھی فراہم کرتا ہے، جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
دوسرے ماہرین بھی اس بات سے متفق ہیں کہ لوکی کا چھلکا کھانا محفوظ ہے، بشرطیکہ یہ تازہ ہو، اچھی طرح پکایا جائے، اور مناسب مقدار میں کھایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھلکا فائبر کا اچھا ذریعہ ہے، جو ہاضمے اور آنتوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں پولی فینول اور فلیوونائڈز بھی ہوتے ہیں، جو جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو تناؤ کو کم کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گھیے کا چھلکا پوٹاشیم اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے، اور اس کا زیادہ فائبر قبض کو روکنے اور آنتوں کی حرکت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم، یہ بات اہم ہے کہ اگر گھیا اگاتے وقت زیادہ کیڑے مار ادویات یا کیمیکل استعمال کیے گئے ہوں، تو وہ چھلکے میں رہ سکتے ہیں۔ اس لیے صرف اس گھیے کا چھلکا کھانا محفوظ ہے، جو کم کیمیکلز کے ساتھ اگایا گیا ہو یا نامیاتی ہو۔
انور فیاض نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو گھیے سے الرجی ہو سکتی ہے، جس سے خارش، سوجن، یا سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، گھیے کا رس زیادہ پینے سے خون میں سوڈیم کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس سے کمزوری، الجھن، یا دیگر سنگین مسائل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ سبزیوں کو اچھی طرح بہتے پانی میں دھویا جائے، چھلکے کو ہلکے ہاتھ سے صاف کیا جائے، اور جہاں ممکن ہو، نامیاتی گھیا کا انتخاب کیا جائے۔
اس موسم گرما میں گھیا کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور اس کے صحت بخش فوائد سے لطف اٹھائیں۔ یہ گرمیوں کی ایک شاندار سبزی ہے، جو نہ صرف تازگی دیتی ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے، خاص طور پر گرم موسم میں۔
ڈاکٹر سلیم اختر، سینئر کنسلٹنٹ فزیشن، کہتے ہیں کہ گرمیوں میں ہفتے میں کئی بار گھیا کھانا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن کچھ احتیاط کرنا ضروری ہے۔ گھیا وٹامنز سی، بی کمپلیکس، اور کے کے ساتھ ساتھ ضروری معدنیات سے بھرپور ہے۔ اس کا فائبر ہاضمے اور آنتوں کی صحت کے لیے بہترین ہے اور وزن کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
گھیے میں تقریباً 92 فیصد پانی ہوتا ہے، جو اسے گرمیوں میں ایک قدرتی ہائیڈریٹر بناتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی زیادہ مقدار بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ڈاکٹر سلیم کے مطابق، 100 گرام گھیا میں صرف 17 کیلوریز اور 2.9 گرام فائبر ہوتا ہے، اور اسے ہفتے میں دو سے تین بار کھایا جا سکتا ہے۔
متنوع فوائد
گھیے کے فوائد صرف ہائیڈریشن اور ہاضمے تک محدود نہیں ہیں۔ ماہرین غذائیات نے اس کے کچھ اہم فوائد بتائے ہیں:
- یہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے، کیونکہ اس کا وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور انفیکشن سے بچاتا ہے۔
- گھیا جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے کے قدرتی عمل کو بہتر بناتا ہے، جو مجموعی صحت کے لیے اچھا ہے۔
- یہ جلد کی صحت کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ اس کے وٹامنز اور معدنیات جلد کو جوان اور تروتازہ رکھتے ہیں۔
- گھیا نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔
- اس میں پوٹاشیم زیادہ اور سوڈیم کم ہوتا ہے، جو گردوں کے مسائل والے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
- گھیا آسانی سے ہضم ہوتا ہے، جو گرمیوں کے موسم میں اسے ایک مثالی کھانا بناتا ہے۔
ضمنی اثرات
گھیا عام طور پر ہفتے میں تین بار کھانا محفوظ ہے، لیکن اس کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ سب سے بڑا خطرہ زہریلا پن ہے، کیونکہ گھیے میں کیوکربیٹاسین نامی کیمیکل ہوتا ہے، جو کچھ لوگوں میں پیٹ خراب کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر گھیا کڑوا ہو۔ اس لیے تلخ گھیا کھانے سے گریز کریں۔
کچھ لوگوں کو گھیے سے الرجی ہو سکتی ہے، جس سے سوجن، خارش، یا دانے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ گھیا کم گلیسیمک انڈیکس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ ہے، لیکن زیادہ مقدار میں کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ گھیا بعض ادویات، جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر کی دوائیوں کے ساتھ تعامل کر سکتا ہے، اس لیے زیادہ مقدار یا اس کا رس پینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
گھیا ایک ایسی سبزی ہے جسے سالن، سوپ، اسٹر فرائی، یا میٹھے کی شکل میں کھایا جا سکتا ہے۔ اس موسم گرما میں گھیا کو اپنی خوراک میں شامل کریں اور اس کے تازگی بخش اور صحت مند فوائد سے لطف اٹھائیں۔





















