بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے وقف املاک سے متعلق متنازع قانون پر عملدرآمد روک دیا، جس کے ذریعے مسلم مذہبی املاک کو ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ عدالت نے وقف بورڈ میں نئی تقرریوں اور ضلعی کلیکٹر کے اختیارات پر پابندی لگائی اور حکومت سے جواب طلب کیا۔
نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے وقف املاک سے متعلق نئے اور متنازع قانون پر عملدرآمد روکتے ہوئے وقف بورڈ میں نئی تقرریوں کے خلاف حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، مودی حکومت نے وقف املاک کے قانون میں ترمیم کر کے وقف بورڈ میں تقرریوں کے طریقہ کار کو تبدیل کیا تھا۔
اس ترمیم کے تحت اب کوئی غیر مسلم شخص وقف بورڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر بن سکتا ہے، اور بورڈ میں کم از کم دو غیر مسلم ارکان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ترمیم نے ضلعی کلیکٹر کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ متنازع وقف املاک یا جائیدادوں کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہیں۔
وقف بورڈ میں تقرریوں کے اس نئے طریقہ کار کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے آج حکم امتناع جاری کیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں نے حکم دیا کہ اگلی سماعت تک وقف بورڈ میں کوئی نئی تقرری نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی ضلعی کلیکٹر وقف زمینوں کی حیثیت کو تبدیل کر سکیں گے۔
عدالت نے بھارتی مرکزی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کرائے، جبکہ اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔





















