گردے ہمارے جسم کے لیے واٹر فلٹر کی طرح اہم ہیں، لیکن چند عام غلطیاں انہیں سنگین امراض کا شکار بنا سکتی ہیں۔ درد کش ادویات کا زیادہ استعمال، کم پانی پینا، تمباکو نوشی، موٹاپا، ناقص غذا، نیند کی کمی، اور الکحل کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان عادات سے بچنا گردوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
گردے ہمارے جسم میں واٹر فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں، جو خون سے زہریلے مادوں اور اضافی پانی کو نکالتے ہیں، اور پوٹاشیم، سوڈیم جیسے اجزا کو متوازن رکھتے ہیں۔یہ ہارمونز بھی بناتے ہیں جو بلڈ پریشر اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔ مختصر یہ کہ گردے ہمارے جسم کے لیے بہت اہم ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ہر 10 میں سے ایک شخص گردوں کے دائمی امراض کا شکار ہے، جس سے جسم میں سیال اور زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔
کچھ روزمرہ عادات یا غلطیاں گردوں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
درد کش ادویات کا زیادہ استعمال
درد سے نجات کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا ضرورت سے زیادہ استعمال گردوں کو نقصان دیتا ہے۔ یہ ادویات گردوں تک خون کے بہاؤ کو کم کرتی ہیں، جس سے انہیں نقصان ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے لینی چاہئیں۔
کم پانی پینا
پانی گردوں کو جسم سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اگر آپ کم پانی پیتے ہیں تو گردوں کو نقصان ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں، جب پسینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے، تو زہریلے مادے اور منرلز جسم میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ اس سے پیشاب کی نالی میں انفیکشن یا گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے، جو گردوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ روزانہ 4 سے 6 گلاس پانی پینا گردوں کی صحت کے لیے مفید ہے۔ پانی کی کمی سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں دشواری ہوتی ہے، جس سے گردوں تک خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔
تمباکو نوشی
تمباکو نوشی نہ صرف کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے بلکہ گردوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، تمباکو نوشی سے گردوں کے کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ خون کی شریانوں کو نقصان دیتی ہے، جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور گردوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
جسمانی وزن پر توجہ نہ دینا
صحت مند وزن گردوں کی صحت کے لیے ضروری ہے، لیکن موٹاپا یا زیادہ وزن گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر کمر اور پیٹ کے ارد گرد چربی جمع ہو جائے تو دل کے امراض اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے، جو گردوں کے امراض کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ موٹاپا براہ راست بھی گردوں کو نقصان دیتا ہے۔
ناقص غذا کا انتخاب
زیادہ تر پراسیسڈ غذاؤں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو دل اور گردوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ زیادہ نمک کھانے سے جسم اسے پیشاب کے ذریعے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس عمل میں کیلشیم بھی زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ اس سے پیشاب میں کیلشیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو گردوں میں پتھری کا باعث بنتی ہے۔
نیند کی کمی
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نیند کی کمی یا بہت زیادہ نیند گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اگر آپ ہر رات 6 گھنٹے سے کم یا 10 گھنٹے سے زیادہ سوتے ہیں تو گردوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند گردوں کی صحت کے لیے بہترین ہے۔
الکحل کا استعمال
الکحل جسم کے دیگر اعضا کی طرح گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات طبی جریدوں کی تحقیق پر مبنی ہیں۔ اپنی صحت کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔





















