چین سے قرض ری شیڈولنگ کا معاملہ دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا گیا

پاکستانی وفد امریکی وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کرے گا

پاکستان نے چینی بینکوں سے 3.4 ارب ڈالر کے قرض کی دو سال کے لیے ری شیڈولنگ کی درخواست دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب واشنگٹن میں آئی ایم ایف اجلاس کے دوران چینی وزیر خزانہ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ سعودی اور امریکی حکام، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ مالی تعاون حاصل کیا جا سکے۔

اسلام آباد: پاکستان نے چینی بینکوں کے ساتھ قرض کی ری شیڈولنگ کا معاملہ ایک بار پھر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے ہفتے واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب سے اس بارے میں بات کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر اور امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری خزانہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وزیر خزانہ اپنے 6 روزہ دورہ امریکا کے دوران بدھ کو چینی وزیر خزانہ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں وہ 3.4 ارب ڈالر کے قرض کو دو سال کے لیے ری شیڈول کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ غیر ملکی فنڈنگ کے خلا کو پورا کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ کے ساتھ سیکریٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک، اور سیکریٹری اکنامک افیئرز بھی امریکا جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی بیجنگ کے دورے کے دوران چینی حکام سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی درخواست کی تھی، لیکن اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ کی سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان سے بھی ملاقات طے ہے۔ پاکستانی وفد امریکی وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ کی امریکی ایگزم بینک کے چیئرپرسن سے ملاقات بھی شیڈول ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ایگزم بینک ریکوڈیک منصوبے کے لیے ایک ارب ڈالر کا قرض دینے کی خواہش رکھتا تھا اور اس نے ترجیحی قرض دہندہ کا درجہ مانگا تھا، لیکن اسلام آباد نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ وزیر خزانہ امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن سے بھی بات چیت کر سکتے ہیں تاکہ نجکاری کے پروگرام میں تعاون حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور آئی ایم ایف کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کا امکان ہے۔

محمد اورنگزیب آئی ایم ایف کے زیر اہتمام ایک پینل ڈسکشن میں بھی حصہ لیں گے، جس کا عنوان درمیانی مدت میں ریونیو موبلائزیشن ہے۔

وزیر خزانہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مساتو کانڈا اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک ایشیا ریجن کے نائب صدر مارٹن ریزر سے ملاقات بھی ان کے شیڈول کا حصہ ہے۔ وہ کلائمیٹ ویلنریبل فورم کے سیکریٹری جنرل محمد نشید سے بھی ملاقات کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین