رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس 88 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کی بیماری اور نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔ ویٹی کن نے ان کے انتقال کی تصدیق کی اور ان کی آخری رسومات سانتا ماریا ماجیور باسیلیکا میں ادا ہوں گی۔ پوپ فرانسس نے سماجی انصاف اور ماحولیات کے لیے کام کیا اور بین المذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
ویٹی کن سٹی: رومن کیتھولک چرچ کے 266ویں سربراہ پوپ فرانسس 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ویٹی کن کے کیمرلینگو کارڈینل کیون فیرل نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح 7:35 بجے روم کے بشپ پوپ فرانسس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
پوپ فرانسس پچھلے کچھ مہینوں سے پھیپھڑوں کی بیماری اور نمونیا میں مبتلا تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے 20 اپریل 2025 کو ایسٹر اتوار کے موقع پر سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ’اربے ایٹ اوربی‘ دعا ادا کی تھی۔
ویٹی کن کے مطابق، پوپ فرانسس کی آخری رسومات باسیلیکا آف سانتا ماریا ماجیور میں ادا کی جائیں گی، جیسا کہ انہوں نے اپنی وصیت میں ہدایت کی تھی۔
ویٹی کن کی جانب سے جاری بیان میں پوپ فرانسس کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کی پوری زندگی خدا اور چرچ کی خدمت کے لیے وقف رہی۔
پوپ فرانسس، جن کا اصل نام خورخے ماریو برگولیو تھا، ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں پیدا ہوئے تھے اور 2013 میں پوپ منتخب ہوئے تھے۔وہ پہلے لاطینی امریکی اور پہلے یسوعی پوپ تھے۔
پوپ فرانسس نے اپنے دور میں چرچ اور پوپائیت میں اصلاحات کے لیے اہم کام کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے سماجی انصاف اور ماحولیات کی حفاظت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے۔یاد رہے کہ وہ پہلے پوپ ہوں گے جنہیں ویٹی کن کے باہر دفن کیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پوپ فرانسس کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی رحلت پوری دنیا، خاص طور پر مسیحی برادری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے ویٹی کن سٹی، عالمی مسیحی برادری، اور پوپ فرانسس کے چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوپ فرانسس کی قیادت میں کیتھولک چرچ نے دنیا بھر میں محبت، برداشت، اور باہمی احترام کا پیغام پھیلایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوپ فرانسس نے اربوں انسانوں کو اچھائی کی ترغیب دی اور امن و سلامتی کے لیے رہنمائی فراہم کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوپ فرانسس کا طرز عمل نہ صرف مسیحی دنیا بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک مشعل راہ رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوپ فرانسس بین المذہبی ہم آہنگی، امن، اور انسانیت کے فروغ کے علمبردار تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسٹر کے موقع پر غزہ اور فلسطین میں فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کی پامالی روکنے کا ان کا بیان ان کی پرامن اور انسانیت سے محبت کرنے والی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔





















