بینکنگ محتسب پاکستان نے ڈیجیٹل فراڈ اور کمرشل بینکوں کے خلاف شکایات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ 2024 میں 27,753 شکایات حل کر کے صارفین کو 1.65 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ موبائل ایپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے دھوکا دہی کے واقعات بڑھے ہیں، اور بینکوں کی ناقص سروسز بھی اس کی وجہ ہیں۔ نئے ڈیجیٹل بینکوں کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔
کراچی: بینکنگ محتسب پاکستان (بی ایم پی) کے سربراہ سراج الدین عزیز نے ڈیجیٹل اور الیکٹرانک پلیٹ فارمز کے خلاف شکایات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے بینک صارفین کو 1.65 ارب روپے کا مالی ریلیف فراہم کیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ موبائل ایپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے دھوکا دہی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں بینکوں کی طرف سے دھوکا دہی اور اکاؤنٹ بلاک کرنے کی شکایات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شکایات بینکوں کی ناقص خدمات کی وجہ سے بھی بڑھی ہیں۔سراج الدین عزیز نے بتایا کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کو ان مسائل سے آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 کے دوران کمرشل بینکوں کے خلاف 27 ہزار 753 شکایات حل کی گئیں۔
اس کے نتیجے میں صارفین کو ایک ارب 65 کروڑ روپے کا ریلیف دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 2023 میں صارفین کو ایک ارب 26 کروڑ روپے کا مالی ریلیف فراہم کیا گیا تھا۔سراج الدین عزیز نے کہا کہ 2023 اور 2024 میں موصول ہونے والی شکایات میں اضافے کے بعد مجموعی طور پر 41 ہزار 546 شکایات نمٹائی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2005 میں بینکنگ محتسب پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک صارفین کو 8 ارب روپے کا ریلیف دیا جا چکا ہے۔سالانہ رپورٹ 2024 جاری کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2024 میں کمرشل بینکوں کے خلاف درج شکایات کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے بننے والے ڈیجیٹل بینکوں کو بھی بینکنگ محتسب کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔اس کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ڈیجیٹل بینکوں کے لیے مزید عملے کی ضرورت ہے جو فِن ٹیک آپریشنز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں مکمل مہارت رکھتا ہو۔
سراج الدین عزیز نے کہا کہ بینکوں کی طرف سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے دھوکا دہی اور جعل سازی سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی آگاہی مہمات کامیاب نہیں ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔





















