کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAIST) کے سائنسدانوں نے ایک ایسی انقلابی دوا تیار کی ہے جو ریٹینل نقصان کو ختم کر کے بینائی بحال کرتی ہے۔ یہ دوا PROX1 پروٹین کو روک کر چوہوں کے ریٹینا کو دوبارہ بناتی ہے اور چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک اثر رکھتی ہے۔ یہ ممالیہ جانوروں میں طویل مدتی ریٹینل بحالی کا پہلا کامیاب تجربہ ہے، جو لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔
سیول: کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAIST) کے محققین نے ایک ایسی دوا تیار کی ہے جو ریٹینا کے نقصان کو ٹھیک کر کے بینائی بحال کر سکتی ہے۔30 مارچ کو KAIST نے اعلان کیا کہ پروفیسر جن وو کم کی سربراہی میں ڈیپارٹمنٹ آف بائیولوجیکل سائنسز کی تحقیقاتی ٹیم نے ایک ایسی دوا بنائی ہے جو ریٹینل اعصاب کو دوبارہ اگانے میں مدد دیتی ہے۔

اس دوا کو ایک بیماری سے متاثرہ چوہے پر آزمایا گیا، جہاں اس نے ریٹینا کو دوبارہ بنایا اور بینائی بحال کی۔یہ کامیابی PROX1 (پروسپیرو ہوموباکس 1) نامی پروٹین کو روک کر حاصل کی گئی، جو عام طور پر ریٹینا کی مرمت کو روکتا ہے۔اس علاج کے نتائج چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے۔
یہ تحقیق ممالیہ جانوروں کے ریٹینا میں طویل مدتی اعصابی بحالی کی پہلی کامیابی ہے۔یہ ان مریضوں کے لیے نئی امید لاتی ہے جو ریٹینل بیماریوں کی وجہ سے بینائی کھو چکے ہیں اور جن کے لیے پہلے کوئی علاج موجود نہیں تھا۔
بینائی انسان کے سب سے اہم حواس میں سے ایک ہے، لیکن دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زیادہ لوگ مختلف ریٹینل بیماریوں کی وجہ سے اسے کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔حالانکہ حالیہ علاج ان بیماریوں کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں، لیکن اب تک کوئی ایسی دوا نہیں تھی جو کھوئی ہوئی بینائی کو واپس لا سکے۔
اب KAIST کی اس نئی دوا نے یہ ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔جیسے جیسے دنیا کی آبادی کی عمر بڑھ رہی ہے، ریٹینل بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔لیکن ممالیہ جانوروں کے ریٹینا کو نقصان پہنچنے کے بعد دوبارہ بننے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ اب تک کھوئی ہوئی بینائی کو بحال کرنے کا کوئی علاج نہیں تھا





















