اگر ملتان سلطانز کی قیمت بڑھی، تو خریدنے کا ارادہ ترک کر دوں گا

علی ترین نے سوال اٹھایا کہ وہ کتنا نقصان برداشت کریں؟

ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز کی قیمت بڑھنے پر اسے دوبارہ نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پی سی بی کے رینٹل ماڈل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فرنچائز مالکان کو کوئی حقوق نہیں ملتے۔ علی ترین نے ملتان کو اپنا مضبوط گڑھ قرار دیتے ہوئے ٹیم کی کامیابی پر اعتماد ظاہر کیا اور پی ایس ایل کی مقبولیت بڑھانے کے لیے پی سی بی سے بہتر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سابق چیمپئن ٹیم ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے واضح کیا ہے کہ وہ فرنچائز کی قیمت بڑھنے پر اسے دوبارہ نہیں خریدیں گے۔ ایک مقامی پوڈ کاسٹ میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بولی میں حصہ لیں گے تاکہ نقصان سے بچ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیم کی درست قیمت جانتے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی سابق مالکان بھاری نقصان کی وجہ سے ٹیم چھوڑ چکے ہیں۔

علی ترین نے سوال اٹھایا کہ وہ کتنا نقصان برداشت کریں؟ انہوں نے کہا کہ ملتان سلطانز کی قیمت کراچی کنگز جتنی ہی ہونی چاہیے اور وہ اسی قیمت پر ٹیم خریدیں گے۔ انہوں نے ملتان کو اپنا ہوم گراؤنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم نے تین میچ ہارے تو انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ پریشان نہ ہوں کیونکہ ملتان میں کوئی انہیں نہیں ہرا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ اصل چیمپئن وہ ٹیم ہوتی ہے جو مشکل حالات میں بہتر کارکردگی دکھائے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ملتان سلطانز نہ صرف مشکلات سے نکلے گی بلکہ ٹائٹل بھی جیتے گی۔

علی ترین نے پی ایس ایل کی مقبولیت میں کمی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اسے بڑھانے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ انہوں نے پی سی بی سے بھی اس سلسلے میں بہتر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف ملتان بلکہ پورا جنوبی پنجاب ان کی ٹیم کی حمایت کرتا ہے اور یہاں پہنچ کر انہیں سکون ملتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انہوں نے کرکٹ کے فروغ کے لیے بہت کام کیا ہے۔

اس سے قبل علی ترین نے پی سی بی کے پی ایس ایل کے رینٹل ماڈل پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فرنچائز مالکان کو کوئی مالکانہ حقوق نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مالکان ہر سال ٹیم رکھنے کے لیے کرایہ ادا کرتے ہیں اور اگر یہ ادائیگی نہ کی جائے تو انہیں کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع ہیں جو پی ایس ایل میں نہیں۔

دوسری جانب، پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن میں دو نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان ٹیموں کے خریدار مل گئے ہیں لیکن ان کے نام اور ملکیت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین