پاکستانی سائنسدانوں کی شاندار کامیابی یونی گولڈ مرغی متعارف

جو سال بھر میں 200 سے زیادہ انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے

پاکستانی سائنسدانوں نے مرغی کی ایک نئی نسل تیار کی ہے جو دیہی علاقوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ مرغی کم خوراک میں بھی اچھی پیداوار دیتی ہے اور شدید موسموں کو بھی برداشت کر سکتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سال میں200سے زائد انڈے دیتی ہے، جو دیہی معیشت اور خواتین کے لیے ایک نیا ذریعہ معاش بن سکتی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق پاکستانی ماہرین نے پولٹری فارمنگ کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے لیے ایک نئی مرغی کی نسل متعارف کروا دی ہے، جو سال بھر میں 200 سے زیادہ انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ نسل دیہی پولٹری فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سائنسدانوں نے اس خاص بریڈ کو ’’یونی گولڈ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس مرغی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً کم خوراک میں پلتی ہے اور شدید موسم، خصوصاً گرمی کے دنوں میں بھی بخوبی زندہ رہ سکتی ہے، جس کی وجہ سے یہ نسل دیہی علاقوں کے لیے انتہائی موزوں سمجھی جا رہی ہے۔

اس نئی نسل کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ عام دیسی مرغی کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ انڈے دیتی ہے، جبکہ اسے پالنے کے لیے خوراک کی مقدار بھی کم درکار ہوتی ہے۔ یہی بات چھوٹے پیمانے پر پولٹری فارمنگ کرنے والوں کے لیے اس نسل کو ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یونی گولڈ بریڈ دیہی علاقوں میں پولٹری انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف انڈوں کی پیداوار بڑھے گی بلکہ گوشت کی ضروریات بھی مقامی سطح پر پوری کی جا سکیں گی۔ یہ دیہی علاقوں کی غذائی خودکفالت اور معاشی بہتری کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرے گی۔

سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسی کامیابی پاکستان میں گزشتہ 60 برسوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، جو کہ ملکی تحقیق کے میدان میں ایک نہایت اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس نئی بریڈ کو پورے ملک کے پولٹری فارمز تک پہنچانے کے لیے ایک منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے، تاکہ دیسی پولٹری کی پیداوار میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت کو مزید تقویت ملے۔

یونی گولڈ بریڈ نہ صرف دیہی ماحول سے ہم آہنگ ہے بلکہ اس کی دیکھ بھال آسان اور لاگت کم ہونے کے باعث یہ دیہی خواتین کے لیے ایک باوقار روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، جو کہ خواتین کی خودمختاری اور دیہی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین