پنجاب میں خواتین کے اغوا، قتل، زیادتی اور تشدد کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ

جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں ریکارڈ ہوئے


پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم جیسے زیادتی، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مقدمات تو درج ہو رہے ہیں لیکن انصاف نہیں مل رہا۔ چھوٹے اضلاع خاص طور پر زیادہ متاثر ہیں جبکہ سزاؤں کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین نے عدالتی اصلاحات اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خواتین کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں خواتین کے خلاف چار سنگین جرائم، جن میں جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، اغوا اور گھریلو تشدد شامل ہیں، میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ بات سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق انصاف کا نظام متاثرہ خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تجزیہ جنوری سے دسمبر 2024 کے دوران دستیاب سرکاری ڈیٹا کی مدد سے کیا گیا، جو رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) ایکٹ کے تحت حاصل کیا گیا۔ ڈیٹا کو ہر ضلع کی آبادی کے حساب سے کرائم ریٹ کے فارمولے سے جانچا گیا۔

جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں ریکارڈ ہوئے، جہاں 532 کیسز درج کیے گئے، اس کے بعد فیصل آباد میں 340 اور قصور میں 271 واقعات رپورٹ ہوئے۔ مگر سزاؤں کا حال یہ ہے کہ لاہور میں صرف 2 اور قصور میں 6 ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا۔ اگر آبادی کے حساب سے دیکھا جائے تو قصور میں فی لاکھ افراد 25.5 اور پاکپتن میں 25 واقعات درج ہوئے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیہی اضلاع میں خواتین کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل کے جرائم میں فیصل آباد سب سے آگے رہا، جہاں 31 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ راجن پور اور سرگودھا میں 15-15 مقدمات سامنے آئے۔ بدقسمتی سے ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کو سزا نہیں دی گئی۔ آبادی کے تناسب سے راجن پور میں غیرت کے نام پر قتل کی شرح 2.9 اور خوشاب میں 2.5 رہی، جو ان علاقوں میں اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

اغوا کے حوالے سے لاہور میں 4,510 کیسز درج ہوئے، لیکن صرف 5 افراد کو سزا دی گئی۔ فیصل آباد میں 1,610، قصور میں 1,230، شیخوپورہ میں 1,111 اور ملتان میں 970 کیسز رپورٹ ہوئے، مگر ان میں سے کسی میں بھی سزا نہیں ہوئی۔ کرائم ریٹ کے لحاظ سے لاہور میں فی لاکھ 128.2، قصور میں 115.8 اور شیخوپورہ میں 103.6 واقعات درج ہوئے۔

گھریلو تشدد کے مقدمات میں گجرانوالہ سرفہرست رہا، جہاں 561 شکایات درج ہوئیں، اس کے بعد ساہیوال میں 68 اور لاہور میں 56 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ ان تمام واقعات میں بھی سزاؤں کا تناسب صفر رہا۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گجرانوالہ میں 34.8 اور چنیوٹ میں 11 کے کرائم ریٹ نے اس نوعیت کے جرائم کی سنگینی کو نمایاں کر دیا۔

ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے رپورٹنگ کے نظام کو بہتر ضرور بنایا ہے، مگر عدالتوں میں مقدمات کا مؤثر تعاقب نہ ہونے کی وجہ سے سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہت سے واقعات متاثرین رپورٹ ہی نہیں کر پاتے یا دباؤ کی وجہ سے روک دیے جاتے ہیں، اس لیے عوامی شعور بیدار کرنے کی مہمات اور عدالتی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ خواتین ویمن سیفٹی ایپ اور ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے بروقت شکایات درج کرا سکیں۔

ایس ایس ڈی او کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز شاہد خان جتوئی نے بتایا کہ اغوا کے پیچھے انسانی اسمگلنگ، جبری مذہب کی تبدیلی، تاوان اور جنسی جرائم جیسے سنگین مسائل چھپے ہوتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں شامل نقشے اور ضلعی ڈیٹا ظاہر کرتے ہیں کہ کئی چھوٹے اضلاع، بڑے شہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر ہیں۔

ایس ایس ڈی او نے اس رپورٹ کو ایک ہنگامی وارننگ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس، عدلیہ اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر مشترکہ اصلاحات لائیں، قانونی نظام کو مؤثر بنائیں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین