بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بڑے سانحے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف وادی کو سوگوار کر دیا بلکہ علاقائی کشیدگی کو بھی بڑھا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس واقعے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے جس پر بھارتی حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بھارت نے پاکستانی شہریوں کے لیے سخت فیصلہ کرتے ہوئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔بھارت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جس سے پاکستانیوں کے بھارت میں قیام کی اجازت ختم ہو گئی ہے۔
سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ کے پیش نظر بھارت نے اپنے سفارتی عملے کی تعداد 55 سے کم کر کے 35 کرنے کی ہدایت کی ہے۔بھارت نے پاکستانی دفاعی اتاشی کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی، بھارتی دفاعی اتاشی کو بھی پاکستان سے واپس بلایا گیا ہے۔
پاکستانی شہریوں کے لیے سارک ویزے بھی بند کر دیے گئے ہیں، جس سے علاقائی سفر پر مزید پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ (اٹاری) بارڈر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان زمینی رابطے کا اہم راستہ تھا۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ واقعہ پہلگام کے معروف سیاحتی مقام پر پیش آیا، جو ہر سال گرمیوں میں ہزاروں سیاحوں کو اپنی خوبصورتی کی طرف کھینچتا ہے۔ حملہ اس وقت ہوا جب علاقے میں سیاحت عروج پر تھی، اور سیاح وادی کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
اے ایف پی نے ایک مقامی اسپتال کی فراہم کردہ فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 26 ہے، اور یہ تمام افراد مرد تھے۔ پولیس نے اس ہولناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
بھارتی حکومت نے اس حملے کو ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے ردعمل میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی معطلی دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
بھارت کے اس اقدام نے علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے سنگین سفارتی اور ماحولیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد وادی میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، جبکہ حکام نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
مزید پیش رفت کا سب کو انتظار ہے، جبکہ دنیا کی نظریں ایک بار پھر کشمیر کی حساس صورتحال پر جم گئی ہیں





















