صرف 7 سال کی عمر میں آپریشن کرنے والا، دُنیا کا سب سے کم عمر ترین سرجن قرار

اکرت نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ بچپن سے ہی شروع کر دیا تھا

اکرت جیسوال، ایک بھارتی بچہ، نے صرف 7 سال کی عمر میں سرجری کرکے دنیا کا سب سے کم عمر سرجن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2 سال کی عمر میں پڑھنے لکھنے میں ماہر اور 12 سال کی عمر میں آئی آئی ٹی میں داخلہ لینے والا یہ نابغہ کینسر کی تحقیق میں بھی مصروف ہے، جو اس کی غیر معمولی ذہانت کی عکاسی کرتا ہے۔

انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ صرف خالق کائنات کی تخلیق ہو سکتی ہے۔ اسی جسم کو بیماریوں سے بچانے یا علاج کے لیے سرجری کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے لیے ڈاکٹر کا اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن ہماچل پردیش کے اکرت جیسوال نے اس روایت کو توڑتے ہوئے صرف 7 سال کی عمر میں سرجری کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ اکرت پران جیسوال کو دنیا کا سب سے کم عمر سرجن مانا جاتا ہے۔

اکرت نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ بچپن سے ہی شروع کر دیا تھا۔ صرف 10 ماہ کی عمر میں وہ چلنے اور بولنے لگا تھا۔ 2 سال کی عمر تک اس نے پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا تھا، جس سے اس کے خاندان والوں سمیت سب حیران رہ گئے تھے۔

اکرت جیسوال 23 اپریل 1993 کو ہماچل پردیش کے نور پور میں پیدا ہوا۔ 7 سال کی عمر تک وہ نہ صرف ریاضی اور سائنس کو سمجھ چکا تھا بلکہ انگریزی ادب بھی پڑھنے لگا تھا۔

صرف 12 سال کی عمر میں اکرت نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) میں داخلہ لے کر ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اکرت کی ذہانت غیر معمولی ہے اور اس کا آئی کیو لیول بہت بلند ہے۔ وہ بچپن سے ہی حیران کن صلاحیتوں کا مالک رہا ہے۔ صرف 5 ماہ کی عمر میں اس نے بولنا شروع کر دیا تھا اور 2 سال کی عمر تک ہندی اور انگریزی میں مکمل گفتگو کرنے لگا تھا۔

اپنی شاندار ذہانت کی بدولت اکرت نے 7 سال کی عمر میں اپنا پہلا آپریشن کیا۔ یہ آپریشن ایک 8 سالہ لڑکی کے ہاتھ پر تھا، جس کی انگلیاں جلنے کی وجہ سے آپس میں چپک گئی تھیں۔ اکرت نے بغیر کسی رسمی میڈیکل ڈگری کے یہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

اکرت نے 12 سال کی عمر میں آئی آئی ٹی کے امتحانات پاس کرکے ایک اور تاریخ رقم کی۔ وہ نہ صرف میڈیکل سائنس بلکہ دیگر شعبوں میں بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ کینسر جیسے خطرناک مرض پر تحقیق کرنا بھی اس کے شوق کا حصہ تھا۔

آج اکرت ایک ماہر ڈاکٹر اور سائنسدان بن چکا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کرنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین