پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے جعلی تنظیموں کے نام استعمال کرنے اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے ذریعے قتل عام کرانے کا بھی دعویٰ کیا۔ پاکستان نے بھارت کے کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کی تیاری کر لی ہے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت سے ثبوت مانگتے ہوئے اپنی افواج کی تیاری کا عزم دہرایا۔
تفصیلات کے مطابق، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انہیں پکی معلومات ملی ہیں کہ بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو ہتھیار دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا مقصد ان تنظیموں کے ذریعے پنجاب، سندھ اور پورے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پھیلانا ہے۔
خواجہ آصف نے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں جس تنظیم کا نام لیا جا رہا ہے، اسے کوئی جانتا تک نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پلواما اور سکھوں کے قتل جیسے واقعات میں بھی بھارت نے ایسی ہی نام نہاد تنظیموں کے نام استعمال کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھارتی انٹیلی جنس اہلکار ہیں جو قتل عام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کراچی سے گلگت تک ہائی الرٹ پر رہے گا۔
برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے دنیا سے اپیل کی کہ وہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر فکر مند ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔
دوسری جانب، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نجی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے پاس پہلگام واقعے سے متعلق کوئی ثبوت ہے تو وہ پاکستان کو دکھائے، ہم کھلے دل سے اسے دیکھنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بلوچستان میں بھارتی ایجنسی راء کی مداخلت کے کافی شواہد موجود ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان سیاسی اور سفارتی طور پر ہر طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان نے اپنے اقدامات کر لیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو پاکستانی افواج اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ کوئی غلط سوچ نہ رکھے۔





















