وفاقی حکومت نے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت کرنے والوں کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اب 60 سال سے زائد عمر کے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات پر کیا گیا، جو تجربہ کار افراد کو ملازمت میں واپس لانے اور مالی بوجھ کم کرنے کے لیے ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وفاقی حکومت نے پینشن کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کرنے والے افراد کو بڑی سہولت دی ہے۔ اب 60 سال سے زائد عمر کے ریٹائرڈ ملازمین فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی پینشن جاری رکھیں گے یا نئی ملازمت کی تنخواہ لیں گے۔
فنانس ڈویژن کے ریگولیشن ونگ کی طرف سے جاری ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ فیصلہ پے اینڈ پینشن کمیشن 2020 کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
یہ نئی پالیسی ہر قسم کی دوبارہ ملازمت پر نافذ ہوگی، چاہے وہ مستقل ہو، کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہو، یا کسی اور شکل میں ہو۔اس سے پہلے، پینشن لینے والے افراد کو دوبارہ سرکاری ملازمت ملنے پر پینشن میں کٹوتی یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
نئی پالیسی ان مشکلات کو ختم کرتی ہے اور ریٹائرڈ ملازمین کو یہ آزادی دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پینشن یا تنخواہ میں سے ایک کا انتخاب کریں۔اعلامیے کے مطابق، یہ پالیسی فوراً نافذ ہو چکی ہے اور اس سے متعلق پرانے تمام احکامات اب منسوخ سمجھے جائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد تجربہ کار پروفیشنلز کو دوبارہ سرکاری ملازمت کی طرف راغب کرنا اور دوہری ادائیگیوں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔





















