پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے ائیر انڈیا کو روزانہ 20 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ بھارتی طیاروں کو یورپ، شمالی امریکا، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات اور پروازوں کی تاخیر بڑھ گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ائیر انڈیا نے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا، لیکن مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارتی ائیر لائنز کے لیے بند کر دی ہیں، جس کے بعد ائیر انڈیا کو اپنی بین الاقوامی پروازوں کے لیے متبادل اور لمبے راستے استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے پروازوں کا وقت بڑھ گیا ہے، ایندھن کا خرچ زیادہ ہو رہا ہے، اور مسافروں کو پروازوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ائیر انڈیا کو ہر روز 20 کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی نقصان ہو رہا ہے۔ شمالی امریکا، یورپ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ جانے والے بھارتی طیاروں کو اب لمبے راستوں سے سفر کرنا پڑتا ہے۔
ان طویل راستوں کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی ہو رہی ہے، پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، اور ائیر لائن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ائیر انڈیا نے بین الاقوامی مسابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور کرایے پہلے جیسے ہی ہیں۔
مثال کے طور پر، دہلی سے لندن کا کرایہ اب بھی تقریباً 7 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے (2640 امریکی ڈالر) ہے، جبکہ دہلی سے نیویارک کا کرایہ تقریباً 8 لاکھ 7 ہزار پاکستانی روپے (2900 امریکی ڈالر) ہے۔ یہ کرایے 23 اپریل 2025 سے پہلے والے کرایوں کے برابر ہیں۔





















