چین نے انٹرنیٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی

دنیا کا پہلا کمرشل 10-گیگابٹ (10G) براڈ بینڈ نیٹورک لانچ کر دیا ہے

چین نے انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے، کیونکہ اس نے دنیا کا پہلا 10-گیگابٹ براڈ بینڈ نیٹورک عوام کے لیے متعارف کرایا ہے۔ یہ نیٹورک، جو چین کی کمپنی یونی کوم اور ہواوے نے مل کر بنایا، انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے، جو 8K ویڈیو اسٹریمنگ اور ورچوئل رئیلٹی جیسے جدید تجربات کو ممکن بناتا ہے۔ اس کامیابی نے چین کو انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بنا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چین نے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کا پہلا کمرشل 10-گیگابٹ (10G) براڈ بینڈ نیٹورک لانچ کر دیا ہے۔ اس سے جدید انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک اہم سنگِ mil حاصل ہوا ہے۔

اس نیٹورک کو چین کی سرکاری کمپنی یونی کوم اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ہواوے نے مل کر تیار کیا ہے۔ اسے صوبہ ہیبائی کی سونن کاؤنٹی میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

یہ نیا نظام، جو 50G Passive Optical Network (PON) ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے، موجودہ فائبر-آپٹک نیٹورک کے مقابلے میں ڈیٹا کی منتقلی، رفتار اور کارکردگی کو غیرمعمولی طور پر بہتر بناتا ہے۔ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

ٹیسٹ کے نتائج سے پتہ چلا کہ اس نیٹورک کی ڈاؤن لوڈ کی رفتار 9834 میگابٹ فی سیکنڈ، اپ لوڈ کی رفتار 1008 میگابٹ فی سیکنڈ، اور تاخیر صرف 3 ملی سیکنڈ ہے۔ یہ روایتی 1G براڈ بینڈ سے دس گنا زیادہ تیز ہے۔

10G براڈ بینڈ سروس سے الٹرا-ہائی ڈیفینیشن 8K ویڈیو اسٹریمنگ، ورچوئل رئیلٹی، اگمینٹڈ رئیلٹی، اور سمارٹ گھروں کے ہموار آپریشن جیسے جدید کام آسان ہو جائیں گے۔

اس کامیابی نے چین کو انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں سب سے آگے لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے بھی جدید براڈ بینڈ سروسز متعارف کرائی ہیں، لیکن چین کی 10G سروس عوام کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین